بھوپال :(ایجنسی)
حکومت نے مدھیہ پردیش کے کھرگون اور بدوانی میں رام نومی کے جلوسوں پر پتھراؤ کے واقعہ پر سخت کارروائی کی ہے۔ وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے پیر کو کہا کہ جس گھر سے پتھر آئے گا، انہیں پتھروں کا ڈھیر بنا دیا جائے گا۔ اس میں دیر نہیں ہو گی۔ یہ ایکشن پیر کو ہی نظر آئے گا۔ وزیر داخلہ کے یہ کہنے کے چند گھنٹے بعد ہی 5 جے سی بی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ تجاوزات ہٹانے کی مہم شروع ہوگئی۔
وزیر داخلہ نروتم مشرا نے کہا کہ اس وقت کھرگون میں امن ہے۔ پولیس کی مناسب نفری موجود ہے۔ کرفیو نافذ ہے۔ فسادیوں کو لگاتار نشان زد کیا جا رہا ہے۔ اب تک 77 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ہر گھر جس سے پتھر آئے ہوں گے وہ گھر پتھروں کا ڈھیر بنا دیں گے ۔ حکومت اس معاملے میں پوری طرح سخت ہے۔ کسی کو بھی ریاست میں امن و امان خراب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہم کسی کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اتوار کی شام کھرگون میں رام نومی کے جلوس پر پتھراؤ کیا گیا۔ اس واقعے میں پولیس اہلکاروں سمیت 24 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد حساس علاقوں میں پولیس کی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ فی الحال کھرگون میں کرفیو نافذ ہے۔ اس کے علاوہ بدوانی کے سینڈوا میں جلوس پر پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا۔
وزیر داخلہ مشرا نے کہا کہ کھرگون کے ایس پی گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ 6 دیگر پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ شیوم شکلا نامی ایک شخص کے سر میں شدید چوٹیں آئی ہیں۔ باقی کو کوئی شدید چوٹ نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ بدوانی میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ وہاں کرفیو نہیں ہے۔
مشرا نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے فرقہ وارانہ ماحول کو کسی کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انتخابی شکست سے کچھ لوگ دکھی ہیں۔ اس وقت پانچ ریاستیں نتیجہ سے متاثر ہیں۔ وہ پیچھے سے اکسانے کا کام کرتے ہیں۔ وہ ریاست کی خوشی اور امن کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ ان نتائج سے بھی وہ نہیں سمجھتے کہ ملک کیا چاہتا ہے۔ ملک کس سمت جانا چاہتا ہے، اس لیے ہم ایسے لوگوں کی خواہشات کو پورا نہیں ہونے دیں گے۔










