بھوپال ؍نئی دہلی :(ایجنسی)
حکومت نے آج مدھیہ پردیش کے کھرگون میں فرقہ وارانہ تشدد کے لیے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے بڑی کارروائی کی۔ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے آج صبح کہا تھا کہ حکومت فسادیوں سے ہرجانے کی وصولی کرے گی۔ اس کے بعد وزیر داخلہ نروتم مشرا نے کہا کہ جن گھروں سے پتھر چلے ہیں، انہیں پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ ان بیانات کے فوراً بعد 5 بلڈوزر کھرگون کے ایک سنیما ہال کے قریب مسلمانوں کے مکانات اور ان کی دکانوں کو گرانے کے لیے پہنچ گئے۔ تقریباً 50 مکانات کو مسمار کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ستیہ ہندی ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے مکانات کو نشان زد اور گرائے جانے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ ان ویڈیوز دونوں برادریوں کے لوگ ڈال رہے ہیں۔ ایک طبقہ اسے سزا کا عمل قرار دے رہا ہے اور دوسرا طبقہ اسے مسلمانوں پر یکطرفہ کارروائی قرار دے رہا ہے۔ اندور کے کمشنر ڈاکٹر پون شرما نے بتایا کہ تقریباً 84 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تقریباً 50 مکانات مسمار کیے جائیں گے جن کی شناخت کر لی گئی ہے۔ یہ لوگ فسادات میں ملوث تھے۔ ہم مالی طور پر فسادیوں کی کمر توڑ دیں گے۔
کھرگون میں کل اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب رام نومی کا جلوس ایک مسلم بستی سے نکالا گیا۔ تالاب چوک پر اونچی آواز میں بجانے والے ڈی جے کو روکنے کی کوشش کی گئی تو فریقین میں جھگڑا ہوگیا۔ اس دوران پتھراؤ ہوا اور اس کے فوراً بعد شہر میں تشدد شروع ہو گیا۔ ایک مخصوص کمیونٹی کے گھروں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے میں کئی لوگ زخمی ہوئے۔ اگرچہ ضلع انتظامیہ نے کرفیو لگا کر حالات کو قابو میں کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن رات بھر شہر کی سڑکوں سے شور کی آوازیں آتی رہیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ گھروں پر کچھ لوگوں کا گروہ حملہ کررہا تھا ۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ اب تک اس واقعہ کی تحقیقات بھی نہیں ہوسکی ہیں کہ تشدد اچانک کس نے اور کیوں شروع کیا، کس طرف سے ہوا۔ کیا مسلمانوں کے علاقے سے جلوس نکالنے کی اجازت تھی؟ لیکن اس سے پہلے کھرگون کی مسلم بستیوں میں بلڈوزر بھیج کر مکانات کو گرانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ شمال مشرقی دہلی فسادات کے ملزم بی جے پی لیڈر کپل مشرا بھی کل کھرگون میں موجود تھے۔ انہوں نے خود اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر رام نومی یاترا کے آغاز کی تصاویر شیئر کی ہیں۔ تاہم، اس کا کھرگون میں ہونے والے تشدد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اویسی کا الزام
اس دوران اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے الزام لگایا ہے کہ اتوار کو رام نومی کے موقع پر اسی طرز پر ملک کی کئی ریاستوں میں فسادات ہوئے اور اس کے لیے انہوں نے ہندو تنظیموں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ رام نومی کے جلوسوں اور رتھ یاترا کا استعمال کئی جگہوں پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ مذہبی رہنماؤں نے مسلمانوں کی نسل کشی اور عصمت دری کی بات کی۔ ہندوتوا کی باتیں کرنے والے ہجوم نے پولیس کے کہنے پر مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان، جھارکھنڈ میں ماحول خراب کیا۔ بتادیں کہ اویسی نے جن ریاستوں کا ذکر کیا ہے ان کے کئی شہروں میں تشدد کے واقعات ہوئے ہیں۔ مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی عام لوگوں نے ملک کی کئی ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ ملک میں کچھ تنظیمیں آگ سے کھیل رہی ہیں۔ کچھ لوگوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ اس کے نام پر ووٹ ملیں گے لیکن ملک کی ترقی نیچے کی طرف جائے گی۔










