نئی دہلی :(ایجنسی)
نیپال میں غیر ملکی ذخائر میں کمی کے درمیان ملک نے غیر ضروری اشیا کی درآمد (امپورٹ) پر پابندی لگا دی ہے۔ لیکن نیپال کے فیصلے سے ہندوستان کی برآمدات (ایکسپورٹ)متاثر ہوسکتی ہیں۔
نیپال کے مرکزی بینک- نیپال راسٹرا بینک نے گزشتہ ہفتے کمرشیل بینکوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ غیر ضروری سامان کے امپورٹ کے لئے لیٹر آف کریڈٹ جاری نہ کرے تاکہ غیر ملکی ذخائر کی کمی کو روکا جاسکے۔
بھارت جن ممالک کو ایکسپورٹ کرتا ہے ان میں نیپال سرفہرست نویں نمبر پر ہے، 2021 میں بھارت نے نیپال کو 9.6 بلین ڈالر کا سامان ایکسپورٹ کیا تھا۔
ہندوستان نیپال کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔ ہندوستان نے 2021 میں 8.3 بلین ڈالر کی تجارت کی تھی اور پچھلے سال کے دوران نیپال سے 1.3 بلین ڈالر کی درآمدات کی تھیں۔ یعنی ہندوستان منافع میں رہا۔
نیپال بھارت سے پیٹرولیم مصنوعات، گاڑیاں، چاول، مشینری کے پرزے، ادویات، لوہا اور اسٹیل، برقی آلات، سیمنٹ اور سبزیاں جیسی اشیا درآمد کرتا ہے۔ لیکن نیپال کی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب سائیکل، موپیڈ، چاول، سونا، بجلی کے آلات اور چاندی سمیت دیگر اشیاء درآمد نہیں کی جائیں گی۔
بزنس اسٹینڈرڈ کے مطابق ایک اہلکار نے بتایا کہ نیپال میں جن درآمدات کے لیے لیٹر آف کریڈٹ جاری کیے گئے ہیں ان میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا تاہم مسئلہ نئے معاہدوں کا ہوگا۔ ہم اس پابندی کو ایک عارضی اقدام سمجھتے ہیں۔
ای ای پی سی انڈیا نے کہا، ’اہم مشینری، برقی آلات اور آٹوموبائل کے لیے، نیپال کا ہندوستان پر بہت زیادہ انحصار ہے۔ اس لیے نیپال کی طرف سے درآمدات پر پابندیاں لگانے سے یقینی طور پر ہندوستان کی انجینئرنگ برآمدات پر منفی اثر پڑے گا۔‘










