لکھنؤ :(ایجنسی)
بی جے پی کو اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات میں زبردست کامیابی ملی ہے۔ 36 سیٹوں پر ہوئے انتخابات میں بی جے پی نے 33 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ جبکہ دو سیٹیں آزاد امیدواروں نے جیتی ہیں اور ایک سیٹ راجہ بھیا کی پارٹی جنستا دل کے امیدوار نے جیتی ہے۔ بی جے پی نے پہلے ہی بلا مقابلہ 9 سیٹیں جیت لی تھیں۔ اس کے بعد 27 سیٹوں پر انتخابات ہوئے جس کے نتائج آج آ گئے ہیں۔
بی جے پی کی جیت پر سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے ٹویٹ کرکے امیدواروں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے ٹویٹ کیا اور کہا- ’ریاست کے لوگ قابل احترام وزیر اعظم کی قابل رہنمائی اور قیادت میں ترقی اور اچھی حکمرانی کے ساتھ ہیں۔‘
تاہم بی جے پی کو سب سے بڑا جھٹکا پی ایم مودی کے پارلیمانی حلقے میں لگا ہے۔ بی جے پی یہاں سے ہار گئی ہے، بی جے پی کے امیدوار یہاں تیسرے نمبر پر رہے ہیں۔ وارانسی سے آزاد امیدوار اناپورنا سنگھ نے بڑے فرق سے الیکشن جیتا ہے۔ اناپورنا سنگھ مافیا برجیش سنگھ کی بیوی ہیں۔ راجہ بھیا کے قریبی اکشے پرتاپ سنگھ پرتاپ گڑھ سے جیت گئے ہیں۔
دوسری طرف یوگی حکومت میں بی جے پی امیدوار برجیش سنگھ پرنسو جونپور سے جب کہ وزیر دنیش پرتاپ سنگھ رائے بریلی سے جیت گئے ہیں۔ اس سے پہلے 1982 میں کانگریس کو یوپی قانون ساز کونسل میں مکمل اکثریت ملی تھی۔ اس کے بعد سے کسی بھی پارٹی کو قانون ساز کونسل میں مکمل اکثریت نہیں ملی ہے۔ کانگریس اور بی ایس پی نے قانون ساز کونسل کے انتخابات میں ایک بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔
33 سیٹوں پر جیت کے ساتھ ہی بی جے پی کو ایوان بالا میں بھی اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ فی الحال بی جے پی کے 100 میں سے 35 اراکین تھے ، مگر 33 اراکین کی جیت کے ساتھ ہی یہ تعداد بڑھ کر 68 ہو گئی ہے جو کہ 51 کی اکثریتی تعداد سے زیادہ ہے ۔وہیں سماج وادی پارٹی کے پاس فی الحال 17 ممبران ہیں ۔ اسمبلی میں اکثریت ملنے کے بعد اب حکومت کیلئے کوئی بھی بل پاس کرانا انتہائی آسان ہو جائے گا ۔
ڈاکٹر کفیل خاں ہارگئے
سماج وادی پارٹی کے معروف امیدوار ڈاکٹر کفیل خاں الیکشن ہار گئے ہیں۔ کفیل خاں کو بی جے پی امیدوار رتن پال سنگھ نےہرایا۔ کفیل خان کو 1031 ووٹ ملے تو وہیں بی جے پی امیدوار کو 4255 ووٹ ملے۔










