نئی دہلی:(پریس ریلیز)
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور قانونــ’’کریمنل پروسیجر (آئی ڈینٹی فیکیشن) ایکٹ2022 ‘‘کو شہریوں کے بنیادی حقوق پر راست حملہ، شہریوں کی پہرہ داری کا نظام اور ملک کو ایک پولیس اسٹیٹ بنانے کی گھنائونی سازش قرار دیتی ہے۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے حال میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوان سے منظور کئے گئے ــ’’کریمنل پروسیجر (آئی ڈینٹی فیکیشن) ایکٹ2022 ‘‘ پر سوال کھڑا کرتے ہوئے حکومت کی نیت اور ارادے پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون دراصل پولیس کو یہ اختیار دے دیتا ہے کہ وہ حراست میں لئے گئے افراد، انڈر ٹرائلس اور محض شک کی بنیاد پر اٹھائے گئے لوگوں کا حساس نجی بائیومیٹرک ڈاٹا جمع کرے جسے وہ 75 سال تک اپنے پاس جمع رکھ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کر کے حکومت نے دراصل عوام کے بنیادی حقوق پرتیشہ چلایا ہے۔یہ دستور کے بنیادی حقوق کی دفعہ(3 )20 (اپنے ہی خلاف گواہ بننے پر مجبور کر نا) دفعہ21(پرائیوسی کا حق) کی واضح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ یہ قانون اختلاف کر نے اور آواز اٹھانے کے بنیادی حق کے خلاف استعمال کیا جائے گا نیز اقلیتوں اور کمزور طبقات کی آواز کو خاموش کر نے کے لئے بھی اسے استعمال کیا جائے گا۔ یہ قانون اس ملک کو ایک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرد ے گا۔ اسی طرح اس بات کا بھی قوی اندیشہ ہے کہ یہ قانون ایک سیاہ قانون بن کر عوام کے شہری و دستوری آزادیوں کو پامال کر دے گا۔
ڈاکٹر الیاس نے ملک کے تمام انصاف پسند اور امن پسند افراد سے اپیل کی کہ وہ متحدہ ہو کر اس کالے اور غیر جمہوری قانون کی پرزور مخالفت کریں جو کہ ریاست کو اپنے ہی شہریوں کے دستوری اور شہری حقوق پامال کر نے کا اختیار دے دیتا ہے۔ جب تک کہ حکومت اسے واپس نہ لے لے۔










