لکھنؤ :(ایجنسی)
یوپی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں بی جے پی کو بمپر جیت حاصل ہوئی ہے ۔ بی جے پی نے 36 میں سے 33 سیٹیں جیتی ہیں، جب کہ ایس پی صفر پرسمٹ گئی ۔ دوسری جانب 3 نشستیں دیگر امیدواروں نے جیتی ہیں۔ دیوریا-کشی نگر سیٹ کافی سرخیوں میں تھی کیونکہ یہاں سے سماج وادیپارٹی نے ڈاکٹر کفیل خاں کو امیدوار بنایا تھا ۔ حالانکہ ڈاکٹر کفیل خاں بھی بڑے فرق سے بی جے پی امیدوار رتن پال سنگھ سے ہار گئے ہیں ۔
ہار کے بعد ڈاکٹر کفیل خاں نے ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’کوئی نہیں جیتا لیکن جمہوریت ہار گئی ہے۔ جس طرح پیسے کا لالچ دیا گیا، بی ڈی سی اور پردھان پر پولیس کا دباؤ ڈالا گیا، انہیں ڈرایا گیا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ یہ جمہوریت کی شکست ہے۔ میں نے 1031 ووٹ ملے ہیں اورمجھ سے دستخط کرایا گیا۔
ڈاکٹر کفیل خان نے بی جے پی کے امیدوار رتن پال سنگھ کو جیت کے لیے مزید نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان پر طنز کرتے ہوئے کہا، ’میں ان کے لیے نیک خواہش کا اظہار کرتا ہوں۔ وہ ایک طلبا ءرہنما رہے ہیں اور جس طرح انہوں نے طاقت کا غلط استعمال کیا، پیسے کا استعمال کیا، وہ بہت آگے جائیں گے۔ مجھے امید تھی کہ اگر میں جیت گیا تو ایک اسپتال اور ایک اسکول کھولوں گا۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم تمام 30 بلاکوں میں مفت میڈیکل کیمپ چلائیں گے۔
دوسری طرف ڈاکٹر کفیل خاں کو شکست دینے والے بی جے پی امیدوار رتن پال سنگھ نے اس جیت کا کریڈٹ سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ اور ریاستی قیادت کو دیا۔ کفیل خاں کے الزامات پر رتن پال سنگھ نے کہا کہ ’اقتدار کا غلط استعمال سماج وادی پارٹی کا کردار رہا ہے اور کسی نے طاقت کا اتنا غلط استعمال نہیں کیا جتنا سماج وادی پارٹی نے کیا ہے۔ ہماری پارٹی اور ہماری حکومت غیر جانبداری سے کام کرتی ہے۔ کفیل خاں ایک مسخرہ اور مداری ہے، آپ نے دیکھا ہوگا۔‘
آپ کو بتاتے چلیں کہ ایم ایل سی انتخابات میں سماج وادی پارٹی نے اب تک کی سب سے خراب کارکردگی دکھائی ہے۔ ایم ایل سی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ وہیں بنارس میں بی جے پی کا امیدوار تیسرے نمبر پر رہا۔ جبکہ مافیا اور جیل میں بند برجیش سنگھ کی بیوی اناپورنا سنگھ نے آزاد امیدوار کے طور پر بنارس سے الیکشن جیتی ہیں۔










