نئی دہلی :(آر کے بیورو)
بنیادی طور پر ہندوتو وادی ایک تنگ نظر اور نظریاتی بحرانوں میں مبتلا، غیر معقول باتوں کی حامل کمیونٹی کا حصہ ہیں، اور جو بھی بچا کھچا اخلاقی روایات ونظام ہیں وہ منفی رویوں نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے، ہندوتوا کی اپنی کوئی داخلی مثبت بنیاد نہیں ہے، سارا کچھ دیگر کی مخالفت اور منفی خارجی بنیاد پر قائم ہے، اگر مسلمان اور اسلامی مظاہر، آذان، حجاب، مسجد، مدرسہ، مسلم پرسنل لاء وغیرہ سامنے نہ ہو تو پورا ہندوتوا، بارش میں بتاشے کی طرح ڈھ جائے گا۔ آذان اور قرآن کے سامنے ہنومان چالیسا، گیتا وغیرہ کو دیکھا دیکھی لا نے کی کوشش جا رہی ہے، لیکن دونوں کی کوئی تاریخی استناد نہیں ہے۔
جب مہا بھارت کی جنگ ہو رہی تھی تو گیتا مہا بھارت میں شامل ہی نہیں تھی، ہزار گیارہ سو سال کے بعد اس میں گیتا کو شامل کیا گیا ہے، ہنومان چالیسا کو تلسی داس کی طرف منسوب ہے لیکن یہ انتساب بھی مشکوک ہے، ان کی معروف و معتبر کتابوں میں ہنومان چالیسا شامل نہیں ہے، ہندو ہزاروں سال سے بھارت میں ہیں لیکن ہنومان چالیسا کو مشکوک طورپر بہت مشکل سے اکبر کے زمانے تک ہی لے جایا جا سکتا ہے، تلسی داس سے پہلے، ست یگ، رام، ہنومان، کرشن کے دور، تریتا یگ ، دواپر یگ اور گلجگ کے بڑے حصے میں ہندو کس کا پاٹھ کرتے تھے، ؟ ہنومان چالیسا منگل کو سورج نکلنے کے بعد اور سورج غروب کے بعد پاٹھ کا چلن ہے، پانچ نمازوں اور آذان کے اوقات میں نہیں، مسجدوں کے سامنے پڑھنے کی روایت نہیں ہے، یہ ردعمل ہے نہ کہ پوجا،یہ رام، ہنومان نے تو کہا نہیں ہے، پھر تو یہ راکشسی عمل ہے، یہ راج ٹھاکرے جیسے ہندو روایات وافکار سے ناواقف لوگوں کو معلوم نہیں ہے، اپنی نا پاک سیاست کے لیے دھرم کو دھندا بنانے کی نا سمجھی کا کھیل ہے، اس سے کوئی دھرم یا فرقہ قابل توجہ و توقیر نہیں بن سکتا ہے اور نہ انسانی سماج کے لیے رہنما و روشنی ۔










