نئی دہلی :(ایجنسی)
دہلی کے جہانگیر پوری میں ایک بار پھر پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا۔ ہفتہ کوہوئے تشدد کے سلسلے میں ایک خاتون کو تفتیش کے لئے لے جانے آئی پولیس پر علاقے کے خواتین نے پتھرا ؤ کر دیا۔ حالانکہ پولیس خاتون کو تفتیش کے لئے اپنے ساتھ لئے گئی۔ پولیس تشدد کے دوران گولی چلانے کے ملمم سونو کی تلاش میں گئی تھی اور اس کے نہ ملنے پر اس کی بیوی کو پوچھ گچھ کے لیے لا رہی تھی۔
آن لائن پورٹل جن ستا کی خبر کے مطابق دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ نے آج دہلی کے جہانگیر پوری میں ہوئے تشدد کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس کے دوران دہلی پولیس کمشنر نے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کو خبردار کیا۔ راکیش استھانہ نے کہا کہ کچھ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم سوشل میڈیا پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ماحول کو خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
پریس کانفرنس کے دوران دہلی پولیس کمشنر نے کہا، ’اب تک 23 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ واقعے کے دوران مجموعی طور پر 9 افراد زخمی ہوئے جن میں 8 پولیس اہلکار اور ایک شہری شامل ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل میڈیا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ ایف ایس ایل کی ٹیموں نے آج جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے۔ کچھ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ لوگوں کو افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔‘‘
مسجد پربھگواجھنڈا کی بات غلط:
جب تشدد ہوا تو ایک فریق کہہ رہا تھا کہ ہندوؤں نے مسجد پر بھگوا جھنڈا لہرانے کی کوشش کی۔ دہلی پولیس کمشنر نے مسجد پر بھگوا جھنڈا لہرانے کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔
دہلی کے جہانگیرپوری میں ہفتہ کو ہنومان جینتی کے موقع پر تشدد ہوا، جس میں نو افراد زخمی ہو گئے۔ شوبھا یاترا پر سماج دشمن عناصر نے پتھراؤ کیا جس کے بعد دو برادریاں آمنے سامنے آگئیں۔ پولیس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے۔










