اردو
हिन्दी
جولائی 18, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

جہانگیر پوری: فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے پولیس پر سنگین سوالات اٹھائے

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
جہانگیر پوری: فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے پولیس پر سنگین سوالات اٹھائے
137
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی :(ایجنسی)

بائیں بازو کی پارٹیوں کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے جہانگیر پوری علاقے کا دورہ کرنے کے بعد اس پورے معاملے میں دہلی پولیس کے رول پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس پورے واقعے کے پیچھے ایک سوچی سمجھی سازش کی جانب نشاندہی کی گئی ہے۔

بجرنگ دل نے جلوس کا اہتمام کیا تھا۔
جلوس میں مقامی نہیں، باہر کے لوگ شامل تھے۔
جلوس میں شامل لوگوں کے پاس پستول سمیت دیگر ہتھیار تھے۔
شوبھا یاترا دوپہر سے پہلے سی بلاک کا دو بار چکر لگا چکی تھی۔
تیسری بار افطار کے وقت، جلوس دوبارہ سی بلاک پہنچا۔
اذان کے دوران مسجد کے سامنے ڈی جے بجایا جاتا ہے۔
نماز کے دوران اشتعال انگیز نعرے لگائے جاتے ہیں۔
اجازت نہ ہونے کے باوجود پولیس کی دو جیپیں جلوس میں شامل تھیں۔

شمال مغربی دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں ہونے والا فرقہ وارانہ تشدد سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیموں کے ایجنڈے کے ایک حصے کے طور پر سامنے آیا ہے کہ وہ مذہبی تقریبات اور تہواروں کو فرقہ وارانہ کشیدگی اور تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال کریں۔ دہلی کے واقعے کو ماضی قریب میں ہونے والے واقعات سے جوڑ کر دیکھا جانا چاہیے۔ یہ بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے تیار کردہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں نتائج آخذ کئے گئے ہیں۔ یہ رپورٹ سی پی ایم، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم ایل) اور فارورڈ بلاک نے تیار کی ہے۔

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو پتہ چلا کہ ہنومان جینتی کے موقع پر 150-200 لوگوں کا ایک گروپ ہاتھوں میں ہتھیار لے کر اونچی آواز میں ڈی جے بجاتے ہوئے جہانگیر پوری کی سڑکوں پر نکلا۔ تاہم اس گروپ کے پاس جلوس نکالنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ گروہ 16 اپریل کی دوپہر سے اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہوئے مختلف حصوں میں گھوم رہا تھا۔

اس جلوس کو دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس گروپ میں کچھ لوگوں کے پاس پستول بھی تھے جس کا وہ مظاہرہ بھی کر رہے تھے۔ کئی نیوز چینلز پر دکھائی جانے والی ویڈیوز سے بھی اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ یہ لوگ اشتعال انگیز نعرے لگا رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اس جلوس کا اہتمام مقامی لوگوں نے نہیں کیا تھا بلکہ اس کا اہتمام بجرنگ دل کے یوتھ ونگ نے کیا تھا جس میں زیادہ تر شرکاء دوسرے علاقوں سے آئے تھے۔ جلوس کے دوران پولیس کی دو جیپیں بھی تھیں۔ ایک جلوس کے آگے اور ایک جلوس کے پیچھے۔ لیکن دونوں جیپوں میں صرف دو پولیس والے تھے۔

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے پایا کہ جلوس پہلے ہی جہانگیر پوری کے سی بلاک کے دو چکر لگا چکا تھا۔ زیادہ تر بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے گھر سی بلاک میں ہیں۔ شام کو جب یہ جلوس تیسری بار سی بلاک پہنچا تو وہاں ہنگامہ ہوگیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’جیسا کہ کچھ بی جے پی رہنما الزام لگا رہے ہیں کہ شوبھا یاترا پر حملہ مسلمانوں نے پہلے سے منصوبہ بند کیا تھا، تو پھر اس یاترا پر دن میں دو بار حملہ کیوں نہیں کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب یہ جلوس تیسری بار سی بلاک پہنچا اور افطار کے وقت ایک مسجد کے سامنے رکا اور نعرے لگانے لگا تو وہاں ہنگامہ ہوگیا۔‘‘

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے تھانے کا دورہ بھی کیا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ دہلی بی جے پی صدر آدیش گپتا، بی جے پی ایم پی ہنس راج ہنس تھانے کے اندر پریس کانفرنس کر رہے تھے اور اس وقت پولیس افسران بھی وہاں موجود تھے۔ پریس کانفرنس کے دوران وہاں موجود لوگ ’جئے شری رام‘ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ماضی میں اس علاقے میں فرقہ وارانہ تصادم کا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا۔ اس علاقے میں کئی دہائیوں سے ہندو اور مسلمان ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔

کئی دہائیوں پہلے جب جہانگیر پوری کو ری سیٹلمنٹ کالونی کا درجہ ملا، تب سے بنگالی بولنے والے مسلمان یہاں رہ رہے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر اپنا کاروبار کرتے ہیں جس میں چھوٹے کاروبار، مچھلی کی فروخت، کباڑ کا کام وغیرہ شامل ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بی جے پی ان لوگوں کو غیر قانونی باشندہ کہہ رہی ہے۔ انہیں روہنگیا بھی کہا جا رہا ہے حالانکہ وہ سبھی دہلی کے رہنے والے ہیں۔

علاقے کا دورہ کرنے کے بعد، سی پی ایم لیڈر برندا کرات اور سی پی ایم کے دہلی سکریٹری کے ایم تیواری، جو حقائق تلاش کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے، نے دہلی کے پولیس کمشنر راکیش استھانہ کو ایک خط لکھ کر پولیس کے کردار پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ یہ پولیس کی ذمہ داری تھی۔ ذرا احتیاط کی جاتی تو واقعہ سے بچا جا سکتا تھا۔ خط میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگر پولیس وقت رہتے اقدام لیتی تو تشدد کو روکا جا سکتا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر جلوس نکالنے کی اجازت دی گئی تھی تو پھر اسلحے کی نمائش میں ملوث لوگ کیوں تھے اور پولیس نے انہیں ایسا کرنے سے کیوں نہیں روکا۔ دراصل ہتھیاروں کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف آرمس ایکٹ کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’’میڈیا میں آپ کے (پولیس کے) بیان سے یہ واضح نہیں ہے کہ اگر آپ نے ان لوگوں کی نشاندہی کی ہے جو ہتھیاروں کی نمائش کر رہے تھے تو اب تک ان کو کن دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور مقدمہ درج کیا گیا ہے یا نہیں؟ آپ کے بیان سے یہ بھی واضح نہیں ہوا کہ اس پورے معاملے میں پولیس کے کردار کی تحقیقات ہو رہی ہیں یا نہیں؟ جلوس میں اسلحہ لے جانے کی اجازت کس نے دی اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟‘‘ آخر پولیس نے مسجد کے سامنے جلوس کو افطار اور نماز کے دوران نعرے لگانے سے کیوں نہیں روکا؟

خط میں کہا گیا ہے کہ اگر اس جلوس کے دوران پولیس کے مناسب انتظامات ہوتے، اسلحہ لے جانے سے روکا گیا ہوتا اور مسجد کے سامنے جلوس کو رکنے کی اجازت نہ دی جاتی، تو جہانگیر پوری کا واقعہ پیش نہ آتا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جس پولیس ٹیم کو اس کیس کی تفتیش سونپی گئی ہے وہی اس پورے واقعے کی ذمہ دار ہے، ایسے میں شفاف تحقیقات کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی
خبریں

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

10 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN