نئی دہلی(ایجنسی)
جہانگیر پوری کے واقعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ،آزاد و غیر جانبدار ذرائع سےجو تفصیلات سامنے آرہی ہیں ان سے رول آف لاء کے مستقبل کے حوالے سے تشویش پائی جارہی ہے۔اس دوران مختلف سیاسی اور مسلم جماعتوں کے وفود دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ممتاز مسلم تنظیمیں مثلاً جمعیۃ علماء ہند،جماعت اسلامی ہند، ویلفیئرپارٹی آف انڈیا وغیرہ متاثر ین سے ملے اور انہیں ہر ممکن مدد کا یقین دلایا، مگر مسلمانوں کی اکلوتی وفاقی تنظیم سمجھی جانے والی مسلم مجلس مشاورت جس میں 16تنظیمیں ممبر کی حیثیت سے شامل ہیں اس کا دورہ تا حال نہیں ہوسکا، حالانکہ وہ فسادات کے پس منظر میں ہی تشکیل ہوئی تھی تاکہ مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعہ زیادہ موثر انداز میں ملک وملت کے مسائل پر مسلمانوں کا مشترکہ موقف رکھاجا سکے ،گزشتہ کچھ عرصہ سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مشاورت اپنا مخصوص کردار کھوتی جارہی ہے۔
اس بات پر حیرت ظاہر کی جارہی ہے کہ ہیڈکوارٹر سے کچھ کلومیٹر دور جہانگیر پوری تک جانے میں آخر کیا دقتیں ہیں ۔صدر مشاورت نوید حامد ذاتی طور پر بہت فعال اور متحرک ہیں اور اپنا بیشتر قیمتی وقت دفتر کو دیتے ہیں۔اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ہے تاکہ مشترکہ پلیٹ فارم کو ہمہ وقت سرگرم رکھا جائے ۔موصوف نے مشاورت کے لیے خود کو وقف کررکھا ہے مگر اس پتہ ماری کے زمین پر اثرات نظر نہیں آرہے ہیں ۔
باوجود اس کے کہ مشاورت یا کسی اور تنظیم کے دوروں سے حالات پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتاہے، لیکن ایسے ہر قدم سے متاثر ین کو اخلاقی تقویت ضرورملتی ہے اور ان میں جینے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس تعلق سے مشاورت کا ماضی بہت شاندار رہا ہے۔ امید کی جارہی کہ مشاورت کے عہدیداران اس پہلو پر کام کررہے ہوں گے اور جلد بدیر یہ مژدہ سننے کو ملے گا کہ مشاورت کا اعلیٰ سطحی وفد جہانگیر پوری کا دورہ کرنے جائے گا۔










