نئی دہلی:(نامہ نگار)
معروف دانشور اور مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں نے مطالبہ کیا ہے کہ مسلم تنظیمیں اپنے آڈٹ شدہ اکاؤنٹ ( آمدوخرچ کی تفصیل )کو عام کریں اور اپنی سائٹ پر ڈالیں تاکہ شفافیت ہو ،انہوں نے کہا کہ مسلم تنظیموں میں آپس میں کوئی تال میل نہیں ۔وہ نہیں بتاتیں کہ کس کی مدد کررہی ہیں ،پبلک ڈومین میں یہ آنا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم تنظیموں نے مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لئے کوئی کام نہیں کیا ،ہر مصیبت کے وقت چندہ جمع کرتی ہوئیں نظر آتی ہیں ۔
خاص باتیں
مسلم تنظیمیں ڈری ہوئی ہیں
سرکار،سنگھ سے اوپن ڈائیلاگ کا وقت آگیا ہے
کسی کو دشمن نہ بنائیں،ہر سیاسی پارٹی سے گفتگو کی ضرورت
قانون نے دفاع کا حق دیا ہے ،موقع پر اسے استعمال کریں
عام آدمی پارٹی مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کیا ،ہندوتوا کا راستہ پکڑلیا
روزنامہ خبریں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیڈرشپ خوف میں ہے ،وہ پبلک کا موڈ دیکھ کر قدم اٹھاتی ہے۔ ڈاکٹر خاں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اوپن ڈائیلاگ کا وقت آگیا ہے ۔ہم سنگھ بی جے پی اور سرکار سے بات کریں ،سیاست میں کوئی اچھوت نہیں ہوتا ،ہر سیاسی پارٹی سے بات کریں اس حکمت عملی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں حالات کی سنگینی کو سمجھ کرلائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈرنے کی نہیں ہم کسی پر حملہ نہ کریں، لیکن جان پر بن آئے، ہمارے گھرپر کوئی چڑھاوا کردے تو آخری سانس تک مقابلہ کریں ،بھلے ہی کچھ انجام ہو،ہمیں خرگوش بلی نہ سمجھاجائے۔
عام آدمی پارٹی کے رویہ پر ان کا کہنا تھا کہ اس نے مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کیا اور ہندوتوا کا راستہ پکڑلیا ہے۔










