دہلی ہائی کورٹ نے مرکز ،دہلی حکومت اور این سی ای آرٹی سے جواب مانگا
نئی دہلی:(ایجنسی)
ہائی کورٹ نے بدھ کو مرکز اور دہلی حکومت سے ایک عرضی پر جواب طلب کیا جس میں قومی ترانے ‘جن گن من’ اور قومی گیت ‘وندے ماترم’ کی یکساں تشہیر کے لیے پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 9 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
قائم مقام چیف جسٹس وپن سنگھی اور جسٹس سچن دتہ کی بنچ نے بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی عرضی پر نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے نیشنل کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کو بھی نوٹس جاری کرکے اس کا جواب طلب کیا ہے۔ عرضی میں مرکز اور دہلی حکومت سے ہدایت جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں ‘جن گن من’ اور ‘وندے ماترم’ گائے جائیں۔
اس کے ساتھ ہی عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے سماعت سے پہلے ہی عرضی کو پبلک کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ درخواست تشہیر کے لیے دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت کی سرزنش پر ندامت اور معذرت کا اظہار کیا ۔ عدالت نے ان کی معذرت قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے طرز عمل کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ وہ موجودہ پی آئی ایل پر غور کرے گی کیونکہ عرضی گزار ایک سنجیدہ مدعی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کے سامنے استدلال کیا کہ وندے ماترم کے سلسلے میں کسی رہنما خطوط یا قواعد کی عدم موجودگی کی وجہ سے قومی ترانہ غیر مہذب انداز میں گایا جا رہا ہے اور فلموں اور پارٹیوں میں اس کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ اس نغمے نے ہندوستانی جدوجہد آزادی میں تاریخی کردار ادا کیا اور 1950 میں آئین ساز اسمبلی کے صدر ڈاکٹر راجیندر پرساد کے بیان کے پیش نظر اسے ‘جن گن من’ کے ہم پلہ رکھنا جانا چاہیے۔ ملک کو متحد رکھنے کے لیے حکومت کا فرض ہے کہ وہ ‘جن گن من’ اور ‘وندے ماترم’ کے فروغ کے لیے قومی پالیسی بنائے۔









