پوتھنتھانی( ایجنسی )
پاپولر فرنٹ آف انڈیا (PFI) اب گیان واپی-متھرا میں مساجد کے خلاف جاری کیس کے تنازعہ میں سامنے آ گیا ہے۔ پی ایف آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مساجد کے خلاف جاری مہم کی مخالفت کرے گا۔ یہ فیصلہ 23-24 مئی کو پوتھنتھانی، کیرالہ میں منعقدہ PFI ایگزیکٹو میٹنگ میں لیا گیا۔ پی ایف آئی کا ماننا ہے کہ گیان واپی اور متھرا مسجد کے خلاف عدالت میں دائر درخواست غلط ہے۔
پی ایف آئی نے گیان واپی میں وضو خانہ کے استعمال پر پابندی کی بھی مخالفت کی ہے۔ پی ایف آئی کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے وضوخانہ کے استعمال پر پابندی مایوس کن ہے۔ اس کے ساتھ عدالت سے یہ اپیل بھی کی گئی ہے کہ عدالت 1991 کے پلیس آف ورشپ ایکٹ کے تحت کسی بھی درخواست کو قبول نہ کرے۔
انڈیا ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ایف آئی نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یوپی، مدھیہ پردیش اور آسام میں مظالم ہو رہے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہاں پی ایف آئی پر دہلی میں تشدد بھڑکانے اور فنڈنگ کرنے کا الزام تھا، اسی پی ایف آئی پر سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران لوگوں کو بھڑکانے کا بھی الزام ہے۔جب بھی کوی تنازع مسلم ایشو کے حوالہ سے سامنے آتا ہے اس میں پی ایف ای کا نام ضرور لیا جاتاہے۔









