(دیو بند سے خصوصی رپورٹ )
ظلم برداشت کرنا اور بے عزت ہوکر بھی خاموش رہنا کوئی ہم سے سیکھے ۔مسلمان اپنے بڑوں کی بے عزتی نہیں کرتا یہ اسے سکھایا گیا ہم جانتے ہیں کہ نفرت کا جواب نفرت نہیں اور آگ کو آگ سے نہیں بجھا سکتی ۔ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے کیا۔ وہ جمعیۃ کے دوروزہ منتظمہ کمیٹی کے اجلاس میں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کیا۔
ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ملک کی خاموش اکثریت پر سوالیہ نشان لگایا اورعزم ظاہر کیا کہ ملک کو بچانے کے لیے ضرورت پڑی تو جیلوں کو آباد کریں گے۔اور جمعیۃ کسی قربانی سے گریز نہیں کرے گی ۔انہوں نے آرایس ایس کا نام لیے بغیر کہا کہ ڈریں وہ جنہوں نے معافیاں مانگی ہوں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ تم جس راستے پر لے جانا چاہتے ہو وہاں نہیں جائیں گے ، انہوں نے حکمران طبقہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ کسی کا اقتدار باقی نہیں رہتا بس ایک ہی ذات ہے جو ہمیشہ باقی رہے گی۔
جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ کے حوالہ سے کہا کہ یہ مسلمانوں کی جماعت نہیں بلکہ بھارت کی جماعت ہے۔ یہ کمزور ہوگی تو ملک کمزور ہوگا۔مولانا نے میڈیا کے رویو پر نکتہ چینی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہے اور حالات کو بگاڑنے میں مددگار ہے ۔
اس موقع پر میڈیاکا زبردست ہجوم تھا اور مولانا مدنی موجودہ حالات کے پس منظر میں خاصا جارحانہ تیوروں میں نظر آئے، حکومت کو چیلنج کیا،مسلمانوں کے حوصلوں کو بڑھایا اور ایکشن پلان کا اشارہ بھی دیا۔ اجلاس میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں مندوبین آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان اعتراضات کا بھی جواب دے دیا جو گزشتہ دنوں بیان پر ہورہے تھے۔









