نئی دہلی :(ایجنسی)
گیان واپی سے لے کر متھرا میں شاہی عیدگاہ کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ یہ معاملہ ایک طرف عدالت تک پہنچ گیا ہے تو دوسری طرف لوگ اورنگ زیب اور مغل دور میں ہونے والے واقعات کی حقیقت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس ساری بحث کے درمیان مہاتما گاندھی کا مبینہ طور پر لکھا گیا ایک مضمون سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔
بتادیں کہ ایک ماہانہ میگزین ’ ‘سیوا سمرپن‘ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے، جس میں مہاتما گاندھی کی تصویر چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے، ’’مندروں کو توڑ کر بنائی گئی مساجد غلامی کی علامتیں ‘‘ اس مضمون میں’ نوجیون ‘ کے 27 جولائی 1937 کے شمارےکاحوالہ دیا گیا ہے ۔ اس مضمون کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مہاتما گاندھی نے شری رام گوپال ’شرد‘ کے خط کے جواب میں کہا تھا کہ مندروں کوتوڑ کر بنائی گئی مساجد غلامی کی نشانی ہیں۔
مضمون کے مطابق: مہاتما گاندھی نے مبینہ طور پر لکھا ہے کہ ’’کسی بھی مذہبی عبادت گاہ پر زبردستی قبضہ کرنا ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ مغل دور میں مذہبی جنونیت کی وجہ سے مغل حکمرانوں نے ہندوؤں کے بہت سے مذہبی مقامات پر قبضہ کر لیا جو ہندوؤں کی مقدس عبادت گاہیں تھیں۔ ان میں سے کئی کو لوٹ کر تباہ کیا گیا اور کئی کو مساجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ اگرچہ مندر اور مسجد دونوں خدا کی عبادت گاہیں ہیں اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن ہندو اور مسلمان دونوں کی عبادت کی روایت الگ الگ ہے۔‘‘

مضمون میں مزید لکھا گیا ہے: ’’مذہبی نقطہ نظر سے، ایک مسلمان کبھی بھی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی مسجد میں، جس میں وہ باقاعدگی سے نماز پڑھ رہا ہے، کوئی ہندو اس میں کچھ لے جا کر رکھ سکتا ہے۔ اسی طرح ایک ہندو یہ ہرگز برداشت نہیں کرے گا کہ اس کے مندر میں جہاں وہ رام، کرشن، شنکر، وشنو اور دیگر دیوتاؤں کی پوجا کرتا رہا ہے، کوئی اسےتوڑ کر مسجد بنا دے۔‘‘
آگے لکھا ہے: ’’جہاں ایسے واقعات ہوئے ہیں درحقیقت یہ نشانیاں غلامی کی ہیں۔ ایسی جگہوں پر جہاں اس طرح کے جھگڑے ہوتے ہیں ہندو اور مسلمان دونوں کو آپس میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کی وہ عبادت گاہیں جو ہندوؤں کے قبضے میں ہیں، ہندو دل کھول کر مسلمانوں کو واپس کردیں۔ اسی طرح ہندوؤں کے مذہبی مقامات جو مسلمانوں کے قبضے میں ہیں، انہیں خوشی خوشی ہندوؤں کے حوالے کر دینا چاہیے۔ اس سے باہمی تفریق ختم ہو جائے گی۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد بڑھے گا جو ہندوستان جیسے مذہبی ملک کے لیے باعث فخر ثابت ہوگا۔‘‘
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان دنوں متنازع عبادت گاہوں کو لے کر ملک بھر میں بحث چھڑ گئی ہے۔ گیان واپی کا مسئلہ موجودہ وقت میں گرم ہے۔









