شموگہ (ایجنسی )ساورکر کے پوسٹروں کو لے کر کرناٹک کے شیو موگا میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ساورکر کے پوسٹروں کو لے کر یوم آزادی کے موقع پر امیر احمد سرکل میں چاقو سے وار کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ کرناٹک پولس نے اس معاملے میں چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار کیے گئے چار میں سے دو کی شناخت ندیم (25) اور عبدالرحمان (25) کے طور پر ہوئی ہے۔ سکول اور کالج بند چاروں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 307 (قتل کی کوشش) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ شیوموگا کے ضلع کلکٹر آر سیلوامانی نے منگل کو شہر اور بھدراوتی شہر کی حدود میں اسکول اور کالج بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان دونوں جگہوں پر امتناعی احکامات 18 اگست تک نافذ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صورتحال قابو میں ہے۔’ستیہ ڈاٹ کام’ کے مطابق ایک گروپ نے ساورکر کا پوسٹر لگایا تھا لیکن دوسرے نے اسے ہٹا دیااور ٹیپو سلطان کے پوسٹر لگانے کی کوشش کی۔ 18ویں صدی کے حکمران ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی اور چوتھی اینگلو میسور جنگ میں شہید ہونے تھے ۔ وہیں بی جے پی ونائک دامودر ساورکر کو اپنا سب سے بڑا آئیکن مانتی ہے۔
چاقو کے حملے میں زخمی شخص کی شناخت پریم سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ اسے علاج کے لیے مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ چھرا گھونپنے کے واقعے کے کچھ دیر بعد پولیس آئی اور پوسٹر کو ضبط کر لیا۔ بھیڑ کو منتشر کرنے اور حالات کو قابو میں کرنے کے لیے لاٹھیوں کا بھی استعمال کرنا پڑا۔ عہدیداروں نے اس جگہ پر قومی پرچم بلند کیا جہاں پوسٹر لگایا گیا تھا۔ فوری طور پر حملے کے پیچھے کامحرک معلوم نہیں ہو سکا۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ اراگا گیانندرا نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا، ‘مجھے بتایا گیا ہے کہ شیوموگل میں چاقو مارنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ساورکر کی تصویر کا مسئلہ ہے۔ لیکن ابھی تک مکمل تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
۔ رپورٹ کے مطابق ایس ڈی پی آئی کے ایک مقامی لیڈر نے کہا کہ یہ مسئلہ پولس کے نوٹس میں لایا گیا ہے کیونکہ سورتھکل فرقہ وارانہ طور پر حساس علاقہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایس ڈی پی آئی حلقہ کا نام ساورکر کے نام پر رکھنے کے خلاف ہے۔








