نی دہلی (ایجنسی) دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر بی جے پی لیڈر شاہنواز حسین کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ آج تک آن لائن میں سنجے شرما کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2018 میں دہلی کی ایک خاتون نے نچلی عدالت میں درخواست دائر کی اور حسین کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ درج کرنے کی اپیل کی۔ الزام تھا کہ شاہنواز حسین نے چھتر پور فارم ہاؤس میں اس کے ساتھ زیادتی کی اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ اب اس معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے حسین کے خلاف عصمت دری سمیت دیگر دفعات میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
بی جے پی لیڈر شاہنواز حسین مرکزی اور بہار حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں ان کو اس خبر سے بڑا جھٹکا لگا ہے،اتنا ہی نہیں عدالت نے پولس کو اس معاملے میں 3 ماہ میں تفتیش مکمل کرنے کو کہا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ میں جسٹس آشا مینن کی بنچ نے کا کہنا ہے کہ ۔ دہلی ہائی کورٹ میں تمام حقائق کو دیکھنے سے یہ واضح ہے کہ پولیس اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے میں پوری طرح سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ پولیس نے ٹرائل کورٹ میں جو رپورٹ پیش کی ہے وہ حتمی رپورٹ نہیں ہے۔اس سے قبل پولیس نے نچلی عدالت میں رپورٹ جمع کرائی تھی اور کہا تھا کہ شاہنواز حسین کے خلاف مقدمہ نہیں بنایا گیا۔ نچلی عدالت نے اپنے فیصلے میں پولیس کی دلیل کو مسترد کر دیا۔شاہنواز حسین بہار سے ایم ایل سی ہیں وہ بہار سرکار میں وزیر تھے ،تین بار ممبر پارلیمنٹ رہ چکے ہیں موصوف واپسی سرکار میں بھی وزیر تھے ،حال ہی میں انہیں بی جے پی پارلیمانی بورڈ سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے








