ٹونک : راجستھان کے حساس شہر ٹونک میں ایک بار پھر فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اب علاقے کی 2 مختلف مساجد میں توڑ پھوڑ کے الزامات ہیں اس معاملے میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔واضح ہو کہ تین دن قبل مبینہ گائے ذبیحہ کے معاملے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوئی تھی جس کے بعد پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر کے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔
آج تک آن لائن کی خبر کے مطابق ضلع کے گھاسی کی دھنی علاقے میں واقع مسجد کے امام عباد علی نے توڑ پھوڑ کی شکایت درج کرائی ہے۔ امام کے مطابق شام 6.30 بجے کے قریب 100-150 لوگ آئے اور مسجد کی املاک میں توڑ پھوڑ کی۔ عباد علی نے ہجوم پر ان پر حملہ کرنے کا بھی الزام لگایا۔ ایسی ہی ایک شکایت سہج بنجارہ مسلم نے بھی درج کرائی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ 19 اگست کو دوپہر 2 سے 3 بجے کے درمیان 60 لوگوں کے ایک گروپ نے مسجد میں توڑ پھوڑ کی۔ ہجوم نے اس دوران کولر، مائیک سیٹ، پنکھے اور کھڑکیوں کے شیشے بھی توڑ ڈالے۔ گاؤں والوں کے مطابق اس دوران اسپیکر کے علاوہ کرسیوں اور جائے نماز کو بھی نقصان پہنچا۔گائے ذبیحہ کی شکایت درج کرانے والے ہنومان چودھری کے مطابق گائے کے ذبیحہ اور گائوں والوں میں گائے کا گوشت تقسیم کرنے کے واقعہ میں 17 لوگ ملوث تھے۔ الزام ہے کہ اعجاز عرف لالہ نے 18 اگست کی رات ایک گائے کو مار ڈالا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس واقعہ میں اسلام نامی شخص ملوث تھا۔ کیس میں درج ایف آئی آر میں نامزد کل 17 میں سے 5 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔








