ترونتھاپورم (ایجنسی )کیرالہ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں کسی مسلمان شخص کو طلاق دینے سے نہیں روک سکتیں اور نہ ہی ایک سے زیادہ شادیوں کو روک سکتی ہیں۔ کیونکہ یہ مسلم قانون یا شریعت کے مطابق عمل ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسا کرنے سے آئین ہند کے آرٹیکل 25 کے تحت ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ اے بی پی نیوز کے مطابق جسٹس اے محمد مشتاق اور جسٹس سوفی تھامس کی بنچ نے کہا کہ اگر طلاق یا کوئی مذہبی فعل پرسنل لاء کے مطابق نہیں ہوتا ہے تو اس کو ایکٹ کے بعد عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کوئی عدالت کسی شخص کو ایسا کرنے سے نہیں روک سکتی۔ بنچ نے کہا کہ ایسے معاملات میں عدالت کا دائرہ اختیار محدود ہے۔








