لکھنؤ: ملک کے سب سے بڑے اورعالمی شہرت یافتہ مرکزی مدارس میں سے ایک ندوہ العلماء میں آج سروے اور تحقیقات کے لیے ایک ٹیم پہنچ گئ۔۔ اس میں ایس ڈی ایم، بی ایس اے اور ڈی ایم او کی ٹیم شامل ہیں۔ یوگی حکومت نے جمعرات کو جواہر بھون میں مدرسہ بورڈ کی میٹنگ بلائی تھی۔ جس میں یہ فارمیٹ طے کیا جانا تھا کہ کن نکات پر مدارس کی چھان بین کی جائے گی۔ لیکن اس میٹنگ سے پہلے ہی تحقیقاتی ٹیم سب سے بڑے مدرسہ دارالعلوم ندوۃ العلماء پہنچ گئی اور ندوہ کے باہر پولیس کو تعینات کردیا گیا ۔
جانچ شروع کر کے یوگی حکومت نے اپنے ہدف کااشارہ دے دیا ہے۔ اس سے دونوں طرف سے ردعمل کا دور شروع ہو جائے گا۔ جو ہندو مسلم بحث کو زندہ رکھے گا۔یوگی حکومت کی ٹیم 26 ستمبر 1898 کو قائم ہونے والے دارالعلوم ندوۃ العلماء مدرسہ کو بھی سروے سے نہیں بخشا۔ اس مدرسے نے ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں ناقابل فراموش رول ادا کیا ہے۔
غیر ملکی طلباء بھی یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ اس لیے اتنے بڑے مدرسے پر کارروائی کو چونکا دینے والا سمجھا جارہاہے۔ ندوہ پہنچ کر تحقیقاتی ٹیم نے اساتذہ کا حاضری رجسٹر اپنے قبضے میں لے لیا۔ پھر اس نے اساتذہ کی فزیکل ویریفکیشن شروع کی۔ ان سے پوچھ گچھ کی کہ انہیں کتنی تنخواہ ملتی ہے، کون سے مضامین پڑھاتے ہیں۔ اس کے بعد ٹیم کے ارکان بھی کچھ کلاسوں میں گئے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ طلبہ کو کیا پڑھایا جا رہا ہے۔








