اردو
हिन्दी
جولائی 30, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

آر ایس ایس سے مذاکرات ضروری مگر….

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
آر ایس ایس سے مذاکرات ضروری مگر….
115
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عدیل اختر

ایک بار پھر یہ خبر آئی ہے کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کچھ سرکردہ مسلمانوں سے خفیہ ملاقات کی ہے اور اس کی خبر آدھا مہینہ گزرنے کے بعد میڈیا کو لیک کی گئی ہے۔ان ملاقاتیوں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر لیفٹنٹ (ریٹائرڈ) جنرل ضمیر الدین شاہ، سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی، دہلی کے لفٹننٹ گورنر رہ چکے مسٹر نجیب جنگ اور پولیٹکل صحافی مسٹر شاہد صدیقی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ایک بڑے کاروباری سعید شیروانی بھی اس وفد کا حصہ تھے۔ اس طرح کی ملاقاتوں کو ہمیشہ غلط ہی سمجھا جائے یہ ضروری نہیں ہے۔ ملاقات اور مذاکرات تو ایک ناگزیر عمل ہے۔البتہ کسی عمل کی کیفیت کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ اس کے نتیجوں کا تخمیہ لگایا جاسکے۔

اس لئے ایسی خبروں کا تجزیہ نہ کرنا ایک بڑی کوتاہی کی بات ہوگی۔پہلی بات اس سلسلے میں غور طلب یہ ہے کہ یہ ملاقات کس کی ایما پر ہوئی، اس کا اہتمام کس نے کیا اور یہ پیش کش کس کی طرف سے تھی؟ یہ بات واضح طور سے سامنے نہیں آئی ہے۔ البتہ یہ بات واضح ہے اور یہ خودخبر کا حصہ ہے کہ یہ ملاقات اس سلسلے کی تیسری یا چوتھی کڑی ہے جو موہن بھاگوت نے مسلم سماج کو سادھنے کے لئے شروع کیا تھا اور جس کے تحت، سب سے پہلے گزشتہ سال کے شروع میں غازی آباد میں ایک پروگرام کے اسٹیج سے مسلمانوں کو براہ راست مخاطب کیا گیا تھا، پھر ممبئی کے ایک ہوٹل میں کچھ مسلمانوں کو مدعو کیا گیا تھا جس میں مولانا کلیم صدیقی بھی شامل تھے جنھیں اس جلسے کے کچھ دن بعد ہی جیل رسید کردیا گیا تھا۔ جمیعت العلماء کے بزرگ صدر مولوی ارشد مدنی کو بھی اسی سلسلے کے تحت آرایس ایس ہیڈکوارٹر میں بلاکر شرف ملاقات بخشاگیا تھا۔ چنانچہ بادی النظر میں یہ نئی ملاقات بھی بلانے، سمجھانے اور بتانے والے یک طرفہ عمل کا حصہ ہی معلوم ہوتی ہے۔

آر ایس ایس سربراہ کے اس ’’دعوتی پروگرام“ کا ہدف اور مقصد کیا ہے؟ اسے خود ان کے بیانوں سے سمجھا جاسکتا ہے۔غازی آباد کے اسٹیج سے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہے اور مسلمانوں کو یہ بات مانناچاہئے کہ ان کے پوروج ہندو تھے، اس لئے بھارت میں رہنے والے سارے لوگ ہندو ہیں۔ پھر انھوں نے بیان دیا کہ سناتن سنسکرتی بھارت کی سنسکرتی ہے اور بھارتیہ ہونا ہی ہندو ہونا ہے۔ ممبئی کے جلسے میں بھاگوت نے کہاتھا کہ آپ یہ تسلیم کریں کہ بھارت میں اسلام حملہ آوروں کے ساتھ آیا۔ اب اس نئی میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسلمان ہندوؤں کو کافر سمجھنا چھوڑیں۔ موہن بھاگوت کے ساتھی رام مادھو نے بھی گزشتہ دنوں ایک خصوصی بیان میں کہا تھا کہ مسلمان بھارت میں سکون سے رہ سکتے ہیں اگر وہ لفظ کافر کا استعمال ترک کریں، خود کو مسلم امت کہنااور سمجھنا بند کریں اور جہاد کے نظرئے سے خودکو الگ کریں۔ان ساری باتوں کا لب لباب ظاہر طور سے یہ ہے کہ آر ایس ایس مسلمانوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی جداگانہ شناخت اور اپنے عقیدے کے بنیادی اصولوں سے دست بردار ہوجائیں۔مسلم دانشوروں سے اس تازہ ملاقات کی جو نیوز اسکرپٹ این آئی اے نے جاری کی ہے اس کے مطابق ”آرایس ایس ذرائع کی رو سے یہ میٹنگ سنگھ کے آئڈیاز کی تشہیر کرنے اور ریلیجئس انکلوسیوٹی (مذہبی شمولیت) کو بڑھاوا دینے کے لئے منعقد کی گئی۔

“ اسی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ میٹنگ سنگھ کی طرف سے اپنے مقاصد پورے کرنے کے لئے منعقد کی گئی،اور سنگھ کے مقاصد میں "ریلیجئس انکلوسیوٹی” کا مطلب کیا ہے؟ بلاشک و شبہ مذہبی انضمام۔ یعنی مسلمانوں کو "محمڈن ہندو” بنانا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان بے شک نماز پڑھ سکتے ہیں، ایک خدا میں یقین رکھ کر اس کی عبادت اپنے طریقے سے اور بغیر کسی مورتی کے کرسکتے ہیں، شادی اور موت کی رسمیں اپنی پسندسے انجام دے سکتے ہیں۔ لیکن ان کی عقیدت کا مرکز بھارت کی بھومی ہونا چاہئے، بھومی کو ماتا کی طرح ماننا چاہئے، بھارت کے اندر پیدا ہونے والے مہا پرشوں سے ویسی ہی عقیدت رکھنی چاہئے جیسی ہندو رکھتے ہیں۔ عالم گیر اسلامی وحدت کے نظرئے کو یعنی امت اسلام ہونے کی حیثیت کو بھول جانا چاہئے اور قرآن و سنت کے تصورات سے اپنے آپ کو آزاد کرلینا چاہئے۔یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے آر ایس ایس بنا ہے۔

جس کے لئے وہ تقریباً سوسال سے سرگرم ہے اور حکومت و سماج کے ہر شعبے کو اس فکر اور مقصد کا حصہ بنانے میں وہ کامیاب ہوا ہے۔ اسی کے لئے ملک کے تمام غیر مسلم اور غیر عیسائی فرقوں کو ہندو ہونے کے جوش سے بھرا گیا ہے اور مذہب و عقیدت کے فطری جذبات کو اشتعال دلاکرنفرت کے الاؤ میں بدلاگیا ہے، اور پھر اس نفرت آمیزی کے جذبات سے عوامی رائے دہی کو اپنے حق میں کرکے حکومت کرنے کا اختیار حاصل کرلیا گیاہے۔ اب جب کہ ملک میں آرایس ایس کی بالواسطہ حکومت ہے اور اس حکومت کے تحت مسلمان عدم تحفظ کی زندگی جینے پر مجبور ہوگئے ہیں، آرایس ایس کی ذیلی حکومتیں اور ذیلی تنظیمیں کھلے عام مسلمانوں کو دبانے، کچلنے، ذلیل کرنے اور ہر طرح سے بے دست و پا کرنے والے کام صبح و شام کررہی ہیں تو مسلمانوں کو رام مادھو یہ پیغام دیتے ہیں کہ آپ اگر ہمارے مطالبات مان لیں تو سکون سے رہ سکتے ہیں۔

اسی ماحول میں موہن بھاگوت لگاتار سربرآوردہ مسلمانوں کی میٹنگیں بلارہے ہیں اور ترغیب وترہیب سے کام لے رہے ہیں۔اس تناظر میں یہ میٹنگ خوش آئند محسوس نہیں ہوتی بلکہ اندیشوں اور خطروں کو بڑھاتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس میٹنگ میں حصہ لینے والے یہ دانشور اور سربرآوردہ لوگ اب ایک بڑی میٹنگ کی تیاری کریں گے جس میں زیادہ مسلمانوں کو شریک کرایا جائے گا اور آر ایس ایس سربراہ کے سامنے انہیں بٹھایا جائے گا۔

اس طرح یہ ایک بہت ہمہ گیر مہم معلوم ہوتی ہے جو مسلمانوں کو بغیر کسی مزاحمت کے خود سپردگی پر مجبور کردینے پر منتج ہوسکتی ہے۔البتہ، اگر مسلم قائدین اور سربرآوردہ لوگ خود پنے اندر اعتماد پیدا کریں، اپنے کردار و عمل سے اپنا اعتبار قائم کریں،پھر از خود پیش قدمی کریں اور آر ایس ایس کو ہندو سماج کی سیاسی، سماجی اور مذہبی قیادت مان کرہندو مسلم تعلقات کے موضوع پر مذاکرات کا مطالبہ کریں تو اسے ایک مثبت کوشش کے طورپر دیکھا جاسکتا ہے۔ تب یہ مذاکرات ظاہر ہے کہ آرایس ایس کے یاخود کسی مسلم تنظیم کے دفتر میں خفیہ طریقے سے نہیں ہوں گے۔ بلکہ ایک قومی یا بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ثالثوں اور ملک کے دیگر مذہبی فرقوں و سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی موجودگی میں ہوں گے۔

اور اس سوال پر ہوں گے کہ دستور ہند جس تصور پر بنا تھا اور باہم ساتھ رہنے کا یہ تعلق جن اصولوں پر قائم ہوا تھا وہ اصول کیوں ٹوٹ رہے ہیں، ملک کو اکثریت کے عقیدے، نظرئے اور جذبات کا پابند بنانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے، اور مقننہ،عدلیہ و انتظامیہ دستور اور قانون کے مطابق عملی رویہ اختیار کرنے میں کیوں ناکام ہیں؟ اگر تمام فرقے یکساں آزادی، حقوق اور اختیار کے ساتھ نہیں رہ سکتے توپھر آگے کا راستہ کیا ہے؟عدیل اختر

یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

جولائی 7, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN