ناگپور دسہرے کے موقع پر سر سنگھ چالک کی طرف سے پالیسی ساز تقریر کی جاتی ہے اس مرتبہ انہوں نے آبادی کنٹرول کو موضوع بحث بناتے ہوۓ آبادی میں عدم توازن پر سوال اٹھایا ۔اس سے قبل مہا ناگپور میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ہیڈکوارٹر میں دسہرہ تہوار پر شستر پوجا کی گئی۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے آبادی کے عدم توازن کا مسئلہ اٹھایا اور دنیا کے سامنے مثال قائم کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو آبادی کنٹرول قانون کی ضرورت ہے۔ اس دوران انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے سمیت کئی اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ آبادی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ مذہبی خطوط پر آبادی کا توازن بھی بہت ضروری ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ "آبادی کو وسائل کی ضرورت ہے۔
اگر وسائل میں اضافہ کیے بغیر اس میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ بوجھ بن جائے گا۔ انہوں نے کہا، ‘اگر اس کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ بھی ایک اثاثہ ہے۔ کسی بھی ملک میں 57 کروڑ نوجوان نہیں ہیں۔ ہمارا پڑوسی ملک چین بوڑھا ہو چکا ہے۔ لیکن ہمیں خیال کو سمجھنا ہوگا۔سنگھ کے سربراہ نے واضح طور پر کہا کہ آبادی کے حوالے سے ایک جامع پالیسی بنائی جانی چاہیے اور کسی کو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔ پالیسی سب پر یکساں لاگو ہونی چاہیے۔ اگر کوئی چیز فائدہ مند ہے تو اسے معاشرہ آسانی سے قبول کر لیتا ہے۔ لیکن جہاں کسی کو ملک کے لیے روانہ ہونا ہے، وہاں کوئی نہ کوئی مسئلہ درپیش ہے۔








