احمدآباد (ایجنسی)گجرات ودیا پیٹھ کے آٹھ ٹرسٹیوں نے ایک ساتھ استعفیٰ دے دیا۔ یہ استعفیٰ گجرات ودیا پیٹھ کے کانووکیشن کی تقریب سے ایک دن پہلے دیا گیا ہے۔ دراصل ودیا پیٹھ کے چانسلر کا تعلق آر ایس ایس سے رہا ہے اور اس کے خلاف ٹرسٹیوں نے احتجاجا استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ ودیا پیٹھ مہاتما گاندھی نے قائم کی تھی۔ اتنی بڑی تعداد میں ٹرسٹیز نے پہلے کبھی استعفیٰ نہیں دیا۔ ودیا پیٹھ کے کل 24 ٹرسٹی ہیں۔
جن ستا آن لائن کی خبر کے مطابق ٹرسٹیوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے گورنر آچاریہ دیوورت سے اپیل کی ہے کہ وہ چانسلر بننے کا دعوت نامہ قبول نہ کریں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ گجرات کے گورنر دیوورت آر ایس ایس کے پس منظر سے آتے ہیں۔ پیر کو ودیا پیٹھ کے انچارج رجسٹرار نکھل بھٹ نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ٹرسٹیوں کے استعفے قبول نہیں کیے گئے ہیں اور 8 رکنی ٹیم استعفیٰ دینے والے ٹرسٹیوں سے بات کرے گی۔ موجودہ چانسلر ایلا بھٹ منگل کو اپنی آخری تدریسی تقریب کی صدارت کریں گی۔
آچاریہ دیوورت کی تقرری کی مخالفت کرنے والے ٹرسٹیوں کے ناموں میں نرسمہا ہتھیلا، منی بین پاریکھ، سدرشن آئینگر، کپل شاہ، مائیکل مزگاؤںکر، چیتنیا بھٹ، نیتا ہارڈیکر اور انامک شاہ شامل ہیں۔ 2018 میں ایک وقت تھا جب یہ سکول فنڈز کی کمی کی وجہ سے بند ہونے والا تھا۔واضح ہو گورنر آچاریہ دیوورت کو گجرات ودیا پیٹھ کے 12ویں چانسلر کے طور پر چارج سنبھالنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔
گورنر آچاریہ دیوورت نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’’وائس چانسلر اور رجسٹرار کونسل کے کچھ نمائندے دعوت نامے کے ساتھ آئے تھے۔ میں مہاتما گاندھی جیسی عظیم شخصیت کے ذریعہ قائم کردہ ادارے کا حصہ بن کر خوش قسمت اور فخر محسوس کرتا ہوں۔








