لکھنؤ پسماندہ مسلمانوں کو لے کر ہورہی سیاست کے درمیان معروف شاعر منور رانا نے کہا کہ اسلام میں ذات پات کا کوئی تصور نہیں ہے اور نہ ہی کوئی بھید بھاو ہے۔ عرب میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سی ذات کا ہے۔ وہاں ہر کسی کی پہچان عربی سے ہے۔ اسی بنیاد پر شادیاں ہوتی ہیں اور تمام معاملے حل ہوتے ہیں۔انہوں نے ایک ٹی وی چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کچھ لوگوں کو پسماندہ کا مطلب بھی پتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں جو پچھڑ جاتا ہے، اسے پسماندہ کہا جاتا ہے۔
انہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ کو لے کر کہا کہ میں ایمانداری سے کہتا ہوں کہ میرا باپ مسلمان تھا اور میں اس کی ضمانت لیتا ہوں لیکن میں اس کی ضمانت نہیں لیتا کہ میری ماں بھی مسلمان تھی۔








