پیرس (ڈی ڈبلیو) جرمنی کی وزیر خارجہ انالینا بیئر بوک نے اتوار کے روز جرمنی کے علاقائی پبلک براڈکاسٹر اے آر ڈی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، "میں نے پچھلے ہفتے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ ہم ایران پر نئی پابندیاں عائد کریں گے۔ ہم اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ ایران کے پاسداران انقلاب کو کس طرح دہشت گردوں کی فہرست میں ڈال سکتے ہیں۔”
جرمن وزیر خارجہ نے ان خیالات کا، پاسداران انقلاب کے اس انتباہ کے بعد، اظہار کیا ہے، جس میں ایرانی ایلیٹ فورس نے ایرانی مظاہرین کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہفتے کے روز احتجاج کا آخری دن ہوگا اور اس کے بعد کوئی بھی احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلے گا۔”
پاسداران انقلاب کے اس بیان کو ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف اپنی پرتشدد کارروائیوں میں مزید شدت اور سختی پیدا کرنے کا اشارہ کے طورپر دیکھا جا رہا ہے۔
جرمنی نے پچھلے ہفتے ہی کہا تھا کہ وہ ایران کے لوگوں پر جرمنی میں داخلے کے حوالے سے پابندیاں سخت کرنے والا ہے۔ یہ پابندیاں ان دیگر پابندیوں کے علاوہ ہوں گی جو یورپی یونین پہلے ہی لگا چکی ہے۔
وزیر خارجہ بیئر بوک نے بتایا کہ ایران اور مغرب کے درمیان جوہری معاملات پر ان دنوں کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔
امریکہ نے پاسداران انقلاب اسلامی کو پہلے ہی دہشت گردوں کی اپنی فہرست میں ڈال رکھا ہے۔ ایران اسے فہرست سے نکالنے کے لیے واشنگٹن پرمسلسل زور دیتا رہا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی راہ میں حائل مسائل میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔








