نئ دہلی :نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے پیر کو کہا کہ جہادی لٹریچر رکھنا جرم نہیں ہے جب تک کہ اس کے فلسفے کو دہشت گردانہ مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔معروف انگریزی روزنامہ دی ہندو(THE HINDU)نے یہ خبر دی ہے۔
دی ہندو میں ایشتا شرما کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے یہ ریمارکس 11 لوگوں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت این آئی اے کے ذریعہ درج ایک کیس میں آئی ایس آئی ایس کے نظریے کے آن لائن پروپیگنڈہ کرنے کے الزام پر دیے ۔ عدالتی حکم میں کہا گیا”مزید برآں، یہ ماننا کہ جہادی لٹریچررکھنا جس میں ایک خاص مذہبی فلسفہ موجود ہو، ایک جرم ہو گا حالانکہ ایسےلٹریچر کی قانون کی کسی شق کے تحت وضاحت یا خاص طور پر ممانعت نہیں ہے، جب تک کہ اس پر عمل کے بارے میں کوئی مواد موجود نہ ہو، قانون نہیں کہتا کہ یہ دہشت گردانہ کارروائی کا ارتکاب ہے، ” یہ خبر دیتے ہوےTHE HINDUنے دعویٰ کیا کہ عدالتی حکم کی ایک کاپی اس کے پاس ہے۔
واضح رہے کہ ملزمان کا تعلق کیرالہ، کرناٹک اور کشمیر سے تھا۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، خصوصی عدالت (این آئی اے)، دھرمیش شرما نے 11 ملزمان میں سے ایک کو تمام الزامات سے بری کردیا۔ مرکزی ملزم مر چکا ہے۔ دیگر نو ملزمان کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 120 بی، سیکشن 13 سیکشن 2 (او) اور یو اے پی اے کی دفعہ 38 اور 39 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
عدالت نے ملزمان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 121 اے کے تحت الزامات عائد کرنے سے انکار کر دیا، یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی بھی حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کر رہا تھا۔
الزامات طے کرنے کا اعلان کرتے ہوئے، عدالت نے کہا کہ اگرچہ ہر ملزم ممکنہ طور پر داعش کا رکن بننا چاہتا تھا لیکن ان میں سے کوئی بھی اب تک ایسی کسی تنظیم کا فعال رکن نہیں رہا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کسی بھی ملزم کو کوئی عہدہ، پوزیشن یا رینک دی گئ ہو ، یا اس معاملے میں، داعش کی طرف سے کسی دہشت گردانہ سرگرمی کو انجام دینے کے لیے کوئی کارروائی کی گئی ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ آئی ایس آئی ایس یا اس کی ذیلی تنظیم یا اس سے منسلک تنظیم کے کسی کمانڈنٹ کی طرف سے کسی بھی ملزم کے ساتھ اس کے سپاہی یا کسی ’’سلیپر سیل‘‘ کے ارکان جیسا سلوک کرنے کو قبول کیا گیا ہو۔








