نئ دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سینئر لیڈر اور بی جے پی کے سابق جنرل سکریٹری رام مادھو نے کہا کہ ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کو "ظلم و ستم” کا نشانہ بنانے کا دعویٰ غلط ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ مظلوموں کی حمایت کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اعلیٰ سطحی عالمی مذہبی کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کے تمام مذاہب کا گھر ہے۔ ہندوستان میں ایک سو اسی ملین مسلمان رہتے ہیں، جو اسے سب سے زیادہ مسلم آبادی والا دوسرا یا تیسرا ملک بناتا ہے۔ ظلم و ستم کے پروپیگنڈے سے دور، ہندوستان نے ہمیشہ مظلوموں کو پناہ دی ہے، مسلم لیڈروں کو صدر، نائب صدر اور چیف جسٹس آف انڈیا بنایا ہے،‘‘ ۔
نیوز پورٹل muslim mirror کی رپورٹ کے مطابق رام مادھو نے دعویٰ کیا کہ”وہ (مسلمان) ہندوستان کی عوامی زندگی میں بہت سے دوسرے اہم عہدوں پر ذمہ داری اداکرتے ہیں، جس کا ہم دوسرے ممالک میں ان کی اقلیتوں کے حوالے سے مشاہدہ نہیں کرتے،” انہوں نے مزید کہا کہ "2050 تک ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی کا حامل ہو گا”۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق جنرل سکریٹری مادھو نے یہ ریمارکس جمعرات کو بالی، انڈونیشیا میں جی 20 مذہبی چوٹی کانفرنس (R20) کی اختتامی تقریب میں کہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان 2023 میں T20 کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔
مادھو کے مطابق، سربراہی اجلاس کو آگے لے جانے کے لیے ہندوستان "بہترین جگہ” تھی۔
انڈونیشیا کی حکومت نے R20، ایک خصوصی اعلی سطحی مذہبی کانفرنس کو G20 چوٹی کانفرنس میں شامل کیا، جہاں یہ پہلی بار منعقد ہوا تھا۔








