غزہ: فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوگیا ہے اتوار کے روز غزہ پٹی میں قائم فلسطینی مسلح گروپوں کی جانب سے داغے گئے راکٹوں کے جواب میں فوجی مقامات پر حملہ کیا۔ اسرائیلی حکام نے کہا کہ اتوار کی صبح اسرائیلی طیاروں نے فلسطین کی اسلام پسند جماعت حماس کی ایک ہتھیار بنانے والی تنصیب اور زیر زمین سرنگ کو نشانہ بنایا ہے۔
ہفتے کی شام غزہ پٹی سے اسرائیل پر راکٹ فائر کیے گئے۔ کسی فلسطینی گروپ نے راکٹوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ فلسطینی راکٹوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا اور وہ غزہ۔اسرائیل باڑکے قریب کھلے علاقے میں گرے۔’ٹائمز آف اسرائیل’ کے مطابق بعد ازاں حماس نے اسرائیلی طیاروں پر فائرنگ کی جو غزہ پٹی کے اندر میزائل داغ رہے تھے۔ اس کے مسلح ونگ نے اسرائیلی طیاروں کو طیارہ شکن فائر اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اسرائیل-فلسطینی کشیدگی میں اضافے کے باوجود غزہ محاذ حال ہی میں کافی بہتر رہا۔
حماس اور دیگر گروپس جیسے فلسطینی اسلامی جہاد اگست کے بعد سے خاموش رہا۔ اس دوارن اسرائیل اور فلسطینی اسلامی جہاد نے بالآخر جنگ بندی تک پہنچنے سے پہلے تین دن کی جنگ لڑی تھی۔غزہ پٹی میں مقیم گروپ اکثر اسرائیل پر راکٹ فائر کرتے ہیں، وہ چھوٹے، بڑے حملے کرتے ہیں۔
فائرنگ کے تبادلے میں اکثر شہریوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ چونکہ اسرائیلی فضائی حدود زیادہ تر آئرن ڈوم نامی فضائی دفاعی نظام سے محفوظ ہے، جو فلسطینی راکٹوں کی ایک بڑی تعداد کو روکتا ہے، اس لیے زیادہ تر ہلاکتیں غزہ پٹی میں ہوتی ہیں۔ غزہ سے باہر کے فلسطینی علاقوں پر فلسطینی اتھارٹی کی حکومت ہے اور غزہ پٹی پر حماس کی حکومت ہے۔








