۔ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا اگر یہ روحانی سفر ہے تو انہیں کانگریس کی قیادت کسی اور کو سونپ دینی چاہیے۔ راہل کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ سیاست میں الیکشن جیتنا سب سے اہم ہے۔ راہل کو سوچنا ہوگا کہ کیا وہ سیاست سے ریٹائر ہونا چاہتے ہیں؟
دوسری طرف وزیر اعظم نریندر مودی ہیں جنہوں نے ان انتخابات پر اس طرح غلبہ حاصل کیا جیسے وہ خود ہر ضلع میں لڑ رہے ہوں۔ ہماچل میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ووٹ ڈالتے وقت ووٹروں کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اپنا ووٹ مودی کے نام پر دے رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ انتخابات نہیں مودی پر رائے شماری ہو رہی ہے۔
نتائج سے صاف ہے کہ گجرات کے لوگوں نے مقامی مسائل کو نظر انداز کیا اور صرف مودی کو ذہن میں رکھا۔ لوگوں کو موربی کا واقعہ بھی یاد نہیں جس میں اس واقعہ کے ذمہ داروں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
ساتھ ہی مودی کا وہی جادو ہماچل پردیش میں نظر نہیں آیا۔ اگر راہل گاندھی وقت نکالتے تو ہماچل کی جیت بڑی ہو سکتی تھی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ راہل گاندھی کیا چاہتے ہیں؟ کیا وہ سیاست سے ہٹ کر کسی نئے راستے پر چلنے لگے ہیں؟ کیا وہ واقعی کانگریس پارٹی کی موت سے پریشان نہیں ہوں گے؟ (انڈین ایکسپریس میں شائع مضمون کا اختصار)








