نئی دہلی: اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک اہم میٹنگ دریا گنج میں ڈاکٹر سید احمد خان کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جس میں قومی سطح پر اردو زبان کی ترقی کے لیے تشکیل دی گئی قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان(این سی پی یو ایل) کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے، این سی پی یو ایل کی گورننگ باڈی گزشتہ 11 سے خالی پڑی ہے۔مرکزی حکومت کی طرف سے اس کی تشکیل نو نہیں کی گئی۔ اردو سے محبت کرنے والے ڈاکٹر لال بہادر جو اس میٹنگ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے، نے کہا کہ یہ قومی ادارہ اس وقت تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جب تک کہ ذاتی تعلقات قائم نہ ہوں۔ یہ اپنے قیام کے مقصد کے حصول میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ گزشتہ 11 ماہ سے اس ادارے کو چلانے والی گورننگ باڈی موجود نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعے اس کی تشکیل نو نہیں کی گئی ہے۔ ادارے کا کام مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ حکومت کے ذریعے جاری کیا گیا بجٹ خرچ نہیں کیا جا رہا، ایسی صورتحال میں اس بات کا امکان ہے کہ یہ بجٹ خرچ کیے بغیر ہی واپس سرکاری خزانے میں چلا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی سطح پر اردو زبان کی ترقی کے لیے یہ واحد ادارہ ہے لیکن حکومت کی بے حسی کے باعث یہاں اردو زبان کی ترقی کے لیے کوئی کام نہیں کیا جا رہا،افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ فنڈ ہونے کے باوجود کام نہیں ہو رہا ہے۔گورننگ باڈی کی غیرموجودگی میں صرف ضروری کام کاج ہی کیے جا رہے ہیں۔ڈاکٹر لال بہادر نے مزید کہا ہے کہ اردو زبان کی ترقی، سربلندی اور وجود کے تحفظ کے لیے مرکزی حکومت کے ذریعے قومی سطح پر کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس کی سرگرمیاں سکڑتی جا رہی ہیں۔ اردو زبان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اسے ہر فرد سے جوڑا جائے اور ٹھوس حکمت عملی بنائی جائے۔ اردو کو روزگار سے جوڑے بغیر اس کی ترقی ممکن نہیں۔ ماہرین زبان کی طرف سے دی گئی سفارشات اور تجاویز پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد کونسل کی تشکیل نو کرے اور اس کے نائب صدر کا تقرر کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام زبانوں کو آئینی حقوق حاصل ہیں لیکن زمینی سطح پر یہ دیکھا جا رہا ہے کہ تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کرنے والی اردو زبان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔تاہم اُردو زبان کو ایک خاص طبقہ سے جوڑ نے کی کوشش کی جا رہی جو بہت ہی افسوسناک بات ہے۔ میٹنگ میں ابوالوفا خان، مفتی محبوب احمد خان قاسمی، حکیم رشید بیگ دہلوی، کامریڈ بی ایل بھارتی، کامریڈ رام بابو، حکیم آفتاب عالم، حکیم عطاء الرحمن اجملی، حکیم مرتضیٰ دہلوی، ڈاکٹر کلدیپ سنگھ، عمران قنوجی وغیرہ نے شرکت کی۔








