اردو
हिन्दी
اگست 1, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بھارتی میڈیا کس کی نمائندگی کرتا ہے

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
بھارتی میڈیا کس کی نمائندگی کرتا ہے
100
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

افتخار گیلانی

کسی بھی ملک کا میڈیا اسکے سماج کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اسی لئے سفارت کار جب بیرون ملک پوسٹنگ پر جاتے ہیں، تو

عام طور پر وہاں کا میڈیاہی ان کی انفارمیشن کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے اور اسکی بنیاد پر وہ رائے بناکر اپنے ملک سفارتی تجزیے ارسال کرتے ہیں۔ کسی شہر یا ملک کو کور کرنے کیلئے آئے بیرونی میڈیا کا نمائندہ بھی مقامی اخباروں و چینلز کو اپنی کوریج کیلئے ایشوز کو جاننے اور پرکھنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ میڈیا ایک ایسا میدان ہے، جس میں صحیح عکاسی کرنے کیلئے سماج کے سبھی طبقات کی نمائندگی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ مگر اگرآپ بھارت میں ڈیوٹی دینے والے سفارت کار یا بیرون ملک میڈیا کے نمائندے ہیں اور آپ قومی میڈیا پر تکیہ کرکے اپنی رائے بناتے ہیں، تو سو فیصد یہ رائے یا تجزیہ غلط ہوگا۔

کیونکہ ابھی حال ہی میں مؤقرادارے آکسفیم انڈیا نے مختلف میڈیا کے اداروں کا سروے کرنے کے بعد اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان میں سے صد فیصد کے مالکان یا ایڈیٹرز اونچی ذات کے ہندو ہیں، نیز یہ ادارے ملک کی اکثریتی آبادی کے مسائل کی اصل صورت حال کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جنوبی بھارت کے دکن ہیرالڈ میڈیا گروپ کے علاوہ بقیہ سبھی میڈیا کے گروپ ، چاہے وہ ٹائمز آف انڈیا ہو یا انڈین ایکسپریس یا زی یا آج گروپ، سبھی ویشیہ یا بنیا ذات کے افراد کی ملکیت ہیں۔

برہمن، چھتری (راجپوت) ویشیہ (بنیا)اونچی ذات کے زمرے میں آتے ہیں، جن کا کل آبادی میں حصہ بالترتیب 3.5فیصد، 5.5فیصد اور 6فیصد ہے۔ یعنی یہ کل آبادی کا محض 15فیصد ہیں۔ جبکہ بقیہ 85فیصد آبادی دلت، قبائلی (آدی واسی) ، دیگر پسماندہ طبقات (مڈل کاسٹ) اور اقلیتوں پر مشتمل ہے۔ آکسفیم کے بقول سال 2022 میں مختلف نیوز رومز میں 121اونچے ادارتی عہدوں پر فائز افراد جن میںا یڈیٹر انچیف، مینیجنگ ایڈیٹر، ایگزیکٹو ایڈیٹر، بیورو چیف، ان پٹ/آؤٹ پٹ ایڈیٹر وغیرہ شامل ہیں کا جب انہوں نے جائزہ لیا، تو پتہ چلا کہ ان میں سے 106اونچی ذات کے اور پانچ افراد مڈل کاسٹ یا دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے تھے۔ ہندی ٹی وی چینلوں کے سبھی 40اینکرز اور انگریزی کے سبھی 47اینکرز اونچی ذات کے تھے۔ ان میں دلت یا آدی واسی کوئی نہیں تھا۔ یعنی بھارت کی اکثریتی آبادی کا قومی میڈیا کی اداراتی لیڈرشپ میں کہیں وجود ہی نہیں ہے۔ مزید یہ کہ پرائم ٹائم شو میں بحث و مباحثہ کیلئے جن افراد کو بلایا گیا تھا ، ان میں سے 70فیصد اونچی ذات کے تھے۔

انگریزی اخبارو ں کے جائزے میں بتایا گیا کہ ایک سال میں ادارتی صفحات کے بس پانچ فیصد حصہ میں دلت مصنفین کو جگہ دی گئی۔ہندی اخبارات میں یہ شرح کچھ بہتر یعنی 10 فیصد تھی۔ بارہ میگزینوں میں شائع 972کور اسٹوریز میں صرف دس ہی نچلی ذاتوں کے ایشوز پر لکھے گئے تھے۔ ادارتی ملازمین میں انگریزی اخباروں میں نچلی ذات کا کوئی فرد نہیں تھا۔ ہندی اخباروں میں دلت برادری کا تناسب 3.23فیصد، انگریزی کے نیوز چینلوں میں 1.64فیصد، ہندی نیوز چینلوں میں 1.61 فیصد، میگزینوں میں 3.57فیصد اور ڈیجیٹل میڈیا میں 11.1فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی اکثریتی آبادی نیوز میڈیا میں غیر حاضر ہیں۔

میڈیا کے مالکان یا مدیروں نے نیوز رومز میں پسماندہ طبقات کو شامل کرنے اور نیوز رومز میں مساوی نمائندگی پیدا کرنے کے لیے دیانتدارانہ کوششیں نہیں کیں۔ یہ دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ میڈیا، دلتوں، آدیواسیوں اور دیگر پسماندہ گروہوں کو نہ صرف نیوز رومز میں نوکریاں دینے بلکہ انکے ایشوز کو بھی جگہ دینے میں ناکام رہا ہے۔ آکسفیم انڈیا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر امیتابھ بہار کا کہنا ہے کہ تنوع کے بغیر جمہوریت کے کوئی معنی نہیں ، اسلئے صرف چند ذاتوں کے غلبہ والا میڈیا اس کی روح کو متاثر کرتا ہے۔

یہ بھارتی جمہوریت کے معیار پر ایک خوفناک تبصرہ ہے۔ ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے مظالم اور آدی واسی آبادی کے استحصال پر ہونے والی کوریج و بحث و مباحثوں کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انگریزی چینل NDTV نے ان ایشوز پرسب سے زیادہ (3.6%) مباحثے دکھائے، نیوز 18 اور ریپبلک بھارت نے کوئی نہیں دکھایا۔ ABP نیوز کا حصہ 2.4% تھا، اس کے بعد آج تک کا 1.8%، سنسد یعنی بھارتی پارلیمان کے اپنے ٹی وی چینل کا 1.3%، زی نیوز کا 1.3% اور انڈیا ٹی وی کا صرف 0.8% حصہ تھا۔ تحقیقی ٹیم نے سات انگریزی اخبارات کی بائی لائنز کا جائزہ لیا ۔ معلوم ہوا کہ دی ہندو اور دی انڈین ایکسپریس کے علاوہ تقریباً تمام انگریزی اخبارات میں اونچی ذاتوں کے رپورٹروں کی بائی لائنز 60فیصد سے زائد تھیں۔

تقریباً تمام اخبارات میںدلت صحافیوں کی تعداد 4 فیصد سے بھی کم پائی گئی ۔ادارتی صفحات میں،دیگر پسماندہ طبقات یعنی مڈل کاسٹ کے صحافیوں کی نمائندگی 9-12 فیصد تھی۔ڈیجیٹل نیوز پورٹلز میں بھی بائی لائنز پر اونچی ذات کے صحافیوں کا غلبہ تھا ۔ سروے میں شامل 10 ڈیجیٹل میڈیا آؤٹ لیٹس میں سے چھ میں کوئی دلت مصنف نہیں تھا، سات ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں آدی واسی کمیونٹی سے کوئی صحافی نہیں تھا۔ پسماندہ برادریوں کو درپیش چیلنجوں کو سمجھنے کے لیے، آکسفیم انڈیا کے محقیقین نے 22 دلت اور آدی واسی صحافیوں سے ملاقاتیں کی۔ معلوم ہوا کہ قلیل تعداد ہونے کے علاوہ ان کو نیوز رومز میں امتیازی سلوک کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کے لئے ایذا رسانی سے کم نہیں ہوتا ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ اونچی ذات کے افراد بڑے میڈیا ہاؤسز کے گیٹ کیپر کے طور پر کام کرتے ہیں اور وہ دیگر طبقات کیلئے رسائی مشکل بناتے ہیں۔۔ ایک صحافی نے معروف چینل این ڈی ٹی وی کی مثال دی، جو لبرل تصور کیا جاتا ہے اور نچلے طبقات پر پروگرام بھی کرتا ہے، مگر اپنے نیوز رومز میں ان طبقات کے صحافیوں کو جگہ نہیں دیتا ہے۔جس کا مجھے خود بھی تجربہ ہوچکا ہے۔ میں نے ایک بار اس چینل کیلئے ٹیسٹ وغیرہ پاس تو کیا تھا، مگر بعد میں انٹرویو کے وقت بتایا گیا ، کہ میں جموں و کشمیر کے اسوقت کے وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ سے چینل کے مالک کو فون کرواکے یا اس کے نام سفارش لکھوا لوں، جو میرے بس سے باہر تھا۔ اس چینل کیلئے مشہور تھا کہ اس میں بس اعلیٰ سرکاری افسران یا سیاستدانوں کے بچوں کو ہی ادارتی ذمہ داریوں کیلئے نوکریاں ملتی ہیں۔

ایک دلت صحافی نے بتایا کہ ایک معروف یوٹیوب چینل نے ان کو ایک بار نیوز ریڈر کیلئے منتخب کیا،مگر جب معلوم ہوا کہ وہ دلت ہیں تو پھر ان کوتربیت کیلئے نہیں بلایا۔ دی وائس میڈیا کی بانی اور ایڈیٹر ببیتا گوتم نے اس رپورٹ کے خالقوں کو صحافیوں نے بتایا کہ امتیازی سلوک نے ان کے کام اور دماغی صحت دونوں کو متاثر کیا ہے۔ ایک خاتون دلت صحافی نے یہ تک کہا کہ بسا اوقات اس کے دماغ میں خودکشی کے خیالات آتے ہیں ۔اب آپ اندازہ کریں کہ اس میڈیا کے اداریوں ، خبروں اور بین السطور کا مطالعہ کرکے اگر آپ بھارت کے حالات کا ادراک کرکے اس ملک کے ماہر کی حیثیت سے اپنے آپ کو متعارف کروایں، تو اس مہارت کا کیا حال ہوگا۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

جولائی 7, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN