19 دسمبر کو یونیورسٹی کیمپس کے اندر طلباء اور سیکورٹی گارڈز کے درمیان پرتشدد تصادم کی وجہ سے الہ باد یونیورسٹی خبروں میں ،وہ سلگ رہی ہے۔ انتظامیہ نے فیس میں اضافے کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ پر حملہ اور ہوائی فائرنگ کے الزامات عائد کیےہیں طلبا نے انتظامیہ پر طاقت کا بے استعمال کرنے کا الزام لگا یا ہے معاملہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور پولیس نے فریقین کی جانب سے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ دی کوئنٹ نے فائرنگ کے بعد یونیورسٹی کے طلباء اور رہنماؤں سے بات کی ۔
"ہم یہاں پڑھنے آئے ہیں یا لڑنے؟ ، الہ آباد یونیورسٹی کے ایک طالب علم رتیش نے کہا، "ہمارے سینئر پر اس طرح کا حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جس طرح گارڈز نے کیا ہے، ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔”
"گارڈز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ یونیورسٹی کی وائس چانسلر سنگیتا سریواستو انہیں تحفظ دے رہی ہیں۔ کیا ہم یہاں پڑھنے یا لڑنے آئے ہیں۔ جس طرح ہم پر 12 راؤنڈ گولیاں چلائی گئیں، یہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گاایک اور اسٹوڈنٹ سوربھ سنگھ نے کہا کہ ویڈیو میں ایک بھی طالب علم کے ہاتھ میں لکڑی کا ٹکڑا تک نہیں ہے۔ گولی بھی چلی ہے۔
طالب علم سوربھ سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ وی سی اور پراکٹر کے کہنے پر گارڈز نے خود کیمپس میں موجود گاڑیوں کو آگ لگائی اور طلبہ کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔
این ایس یو آئی کے اسٹوڈنٹ لیڈر وویکانند پاٹھک نے بتایا کہ "انہیں ضلع انتظامیہ نے یقین دلایا ہے کہ 48 گھنٹوں کے اندر ملزمان کو پکڑ لیا جائے گا اور ملوث ایجنسیوں کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا”۔ طلبہ رہنما نے کہا کہ اگر 48 گھنٹوں میں ایسا نہ ہوا تو طلبہ کا احتجاج دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
طلبہ یونین کی سابق صدر اور ایس پی لیڈر رچا سنگھ نے کیمپس میں تقریر کرتے ہوئے وائس چانسلر سنگیتا سریواستو کو آمنے سامنے بات چیت کے لیے مدعو کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں لاٹھی کھانا نہیں آتا، ہم تو لاٹھیاں توڑتے ہیں
یونیورسٹی کے سابق طلباء یونین صدر سنجے تیواری نے دی کوئنٹ کو بتایا کہ "اگر یونیورسٹی انتظامیہ اس کام (مبینہ تشدد) میں ان کا ساتھ دیتی ہے تو ہم برداشت نہیں کریں گے”۔ میرا ملک کے پی ایم سے مطالبہ ہے کہ اگر یونیورسٹی کے وی سی کو نہ ہٹایا گیا تو جو تحریک اب بھڑک رہی ہے ،بہت آگے جائے گی
الہ آباد یونیورسٹی کے سابق طلباء یونین کے صدر بابا ابھے اوستھی نے کہا کہ یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے نے انہیں پارلیمنٹ میں فائرنگ کی یاد دلا دی۔
"میں یہاں کے ان نوجوانوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جو گولی سے نہیں بھاگے بلکہ آگے کھڑے تھے، اسی جذبے سے ہم بھی یہاں آئے ہیں، ان بوڑھی ہڈیوں میں اب بھی وہ خون باقی ہے، ۔ یہاں قلم کام کرتا ہے اور یہاں آپ کو گولیاں چل رہی ہیں۔
دوسری جانب یونیورسٹی کے پی آر او جیا کپور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "شرپسندوں نے جھنڈ بنا کر کیمپس میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی، جس سے کیمپس میں خوف کی فضا پیدا ہوگئی، شرپسندوں نے ایک موٹر سائیکل کو آگ لگا دی، شیشے ٹوٹ گئے۔ دو اساتذہ کی گاڑی کو توڑا، جنریٹر کو آگ لگا دی اور یونیورسٹی کینٹین کو آگ لگا دی، ساتھ ہی وہ فائرنگ بھی کر رہے تھے۔








