ایران میں سابق نائب وزیر دفاع علی رضا اکبری کو برطانیہ کے لئے جاسوسی کے الزام میں پھانسی کی سزا سُنا دی گئی ہے۔
ایران عدلیہ سے منسلک خبر رساں ایجنسی ‘میزان’ کے مطابق اکبری کو مختصر مدت قبل برطانیہ کے لئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔
اکبری کی حراست کے دوران ان کے خلاف دعوی دائر کر کے جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور عدالت نے انہیں سزا ئے موت سُنا دی ہے۔
ملزم کی طرف سے صفائی کی اپیل کے بعد سُپریم کورٹ نے بھی فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
دوسری طرف محکمہ خفیہ خبر رسانی نے کہا ہے کہ اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ اکبری نے ملک کی حساس اور اسٹریٹجک اداروں کی خفیہ معلومات برطانیہ کی خفیہ سروس المعروف "ایم آئی 6” کو فراہم کی ہیں۔
بیان میں علی رضا اکبری کو ایم آئی 6خفیہ سروس کے اہم ترین جاسوسوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے جس نے ایران کے اسٹریٹجک اداروں کے بارے میں اہم معلومات جمع کیں اور ان جمع شدہ معلومات کو کلیتاً شعوری شکل میں برطانوی خفیہ کے حوالے کیا ہے۔
واضح رہے کہ علی رضا اکبری ، 1997 سے 2005 میں صدر محمد خاتمی کے دور میں نائب وزیر دفاع کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔
وہ، ایران اور برطانیہ دونوں کے شہری ہیں اور ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق انہیں 2019 سے 2020 کے سالوں میں گرفتار کیا گیا تھا۔








