دہلی: بی بی سی کی ایک ڈاکیومنٹری – ‘انڈیا: دی مودی کویسچن’، ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور ملک کی مسلم اقلیت کے درمیان کشیدگی کے بارے میں بات کرتی ہے۔ نیز، 2002 میں فروری اور مارچ کے مہینوں میں گجرات میں ہونے والے بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد میں ان کے رول کے متعلق ‘جانچ کے دعووں’ پر بھی بات کرتی ہے۔بھارت سرکار نے اسے پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کردیا ہے ۔ ان دنگوں میں ‘ایک ہزار’ سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔یہ تشدد اس واقعے کے بعد شروع ہوا تھا، جس میں 27 فروری 2002 کو کار سیوکوں کو لے جارہی ایک ٹرین میں گودھرا میں آگ لگا دی گئی تھی، جس میں 59 لوگ مارے گئے تھے
منگل کی شام بی بی سی ٹو پر برٹن میں نشر ہونے والی ایک نئی سیریز کے پہلے حصے میں برطانوی حکومت کی ایک رپورٹ ، جس پر پہلے پابندی عائد کر دی گئی تھی، جو آج تک نہ کبھی شائع ہوئی اور نہ ہی سامنے آئی، کو تفصیل سے دکھایا گیا ہے
کیومنٹری میں رپورٹ کی تصویروں کی ایک سیریز پیش کی گئی ہے اور ایک بیان میں تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘نریندر مودی براہ راست ذمہ دار ہیں۔’اس میں واقعات کے سلسلے کو ‘تشدد کی منظم مہم’ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس میں ‘نسل کشی کے تمام اشارے’بھی ہیںرپورٹ گجرات میں ہونے والی پیش رفت سے فکرمند برطانوی حکومت کی جانب سےکروائی گئی جانچ کا نتیجہ ہے
یکم مارچ 2002 کو احمد آباد میں ہونے والے فسادات کی ایک تصویر۔ (تصویر: رائٹرس)انکوائری ٹیم کی طرف سے برطانوی حکومت کو سونپی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ‘تشدد کا دائرہ ، جس قدر رپورٹ کیا گیا اس سے کہیں زیادہ تھا ‘ اور ‘مسلم خواتین کے ساتھ بڑے پیمانے پر اور منظم طریقے سے ریپ کیا گیا’
کیونکہ تشدد سیاسی نوعیت کا تھا۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ فسادات کا مقصد ‘ہندو علاقوں سے مسلمانوں کا صفایا کرنا’ تھا۔ ڈاکیومنٹری میں الزام لگایا گیا ہے،’بلاشبہ یہ مودی کی طرف سے ہوا۔ڈاکیومنٹری میں ایک برطانوی سفارت کار نے اپنی شناخت مخفی رکھتے ہوئے کہا کہ ، ‘تشدد کے دوران کم از کم 2000 افراد کو قتل کیا گیا، جن میں اکثر مسلمان تھے۔ ہم نے اسے نسل کشی کے طور پر پیش کیا –مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی ایک دانستہ اور سیاسی طور پر کی گئی کوشش ۔
ڈاکیومنٹری میں مذکور برطانوی تحقیقاتی رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ ‘جب تک مودی اقتدار میں رہیں گے، ہم آہنگی ناممکن ہے۔’ بی بی سی ٹو کی ڈاکیومنٹری فی الحال ہندوستان میں دیکھنے کے لیے دستیاب نہیں ہےقابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال جون میں ہندوستان کی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ‘گجرات فسادات کے پیچھے کوئی بڑی سازش نہیں تھی’۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ،مجموعی طورپر ایک بڑی مجرمانہ سازش کے (الزامات) تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔








