پونے کی ایک عدالت نے جمعہ کو ہندو راشٹرا سیناکے سربراہ دھننجے جے رام دیسائی عرف بھائی سمیت تمام ملزمان کو 2جون2014 میں 28 سالہ مسلم نوجوان محسن شیخ کے قتل کے مقدمے میں بری کر دیا۔ INDIAN EXPRESS نے یہ خبر دی
تفصیل کے مطابق شولاپور کےرہنے والے محسن پونے میں ایک پرائیویٹ فرم میں بطور انجینئر کام کرتے تھے۔ سوشل میڈیا پر شیواجی مہاراج اور شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کی قابل اعتراض تصاویر گردش کرنے کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ تصادم کے دوران مبینہ طور پر ایچ آر ایس سے وابستہ نوجوانوں نے محسن پر اس وقت حملہ کیا جب وہ 2جون 2014کی رات اپنے دوست ریاض احمد مبارک شیندورے کے ساتھ نماز ادا کر کے گھر جا رہے تھے محسن زخموں کی تاب نہ لاکر چند گھنٹوں بعد اسپتال میں انتقال کر گیے۔ ان کے بھائی مبین شیخ نے اس معاملے میں ہڈپسر پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔
پولس نے اس معاملے میں HRS کے 21 کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، بشمول دھننجے دیسائی، جو پوڈ کے پرمار بنگلہ کے رہنے والے ہیں۔ جہاں ایک ملزم نابالغ بتایا جاتا ہے، باقی 20 کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ بعد میں سب کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
دفاعی وکیل سدھیر شاہ نے کہا کہ ڈیسائی سمیت تمام ملزمان کو ایڈیشنل سیشن جج ایس بی سالونکھے کی عدالت نے بری کر دیا








