مغل، تواریخ کا حصہ ہیں، نام بدل دینے سے تاریخ ختم نہیں ہو جاتی ہے، اگر کچھ کرنے کا دم ہے تو کچھ نیا بنا کر دکھاؤ، ہندوتو وادی عناصر احساس کمتری اور غاصبانہ ذہنیت میں مبتلا ڈرے سہمے ہوئے ہیں، بڑی لکیر کھینچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں، اجاڑنے، توڑنے یا قبضہ کر کے اپنا بنانے کے روگ مبتلا سماج کبھی وشو گرو نہیں بن سکتا ہے، سناتن دھرم سدا قائم طرز فکر و روایت ہے، اس میں قبول و تسلیم ہے نہ استرداد و انہدام ، مغلوں نے ہندستاں کو گلستاں بنایا اور فرقہ پرست ہند کو دھند میں ڈبو رہے ہیں، جس کے پاس دینے کے لیے نہ ہو وہ نہ آدرش ہو سکتا ہے اور نہ قابل اخذ و تقلید،








