کیرالہ ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی (PIL) دائر کی گئی ہے، جس میں بچوں کے غیر طبی ختنہ پر پابندی کی درخواست کی گئی ہے۔ درخواست میں اس پریکٹس کو بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی، غیر قانونی اور قابل قبول اور ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
دائیں بازو کے رجحانات اور ہندوتو کا نظریہ کو سپورٹ کرنے والی ویب سائٹ OPINDIA’ کی خبر کے مطابق یہ PIL ایک این جی او non religious citizen (NRC) اور پانچ دیگر افراد کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں دوسرے مدعا علیہ یعنی وزارت قانون و انصاف کو ختنہ کی ممانعت کے مناسب قانون پر غور کرنے اور اس پر فیصلہ کرنے کے لیے ایک مناسب رٹ جاری کرنے کی بھی مانگ کی گئی ہے۔
درخواست گزاروں نے الزام لگایا کہ ختنہ بچوں کے بنیادی حقوق اور ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بچے اس طرز عمل کا شکار ہیں۔یہ عمل ظالمانہ، غیر انسانی اور وحشیانہ ہونے کے ساتھ ساتھ آئین کے عطا کردہ حقوق کے بھی خلاف ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے، "یہ ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت شہریوں کے قیمتی بنیادی حق، "زندگی کے حق” کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اگر ریاستی ادارہ آئین کے محافظ کے طور پر شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہتا ہے تو آئینی عدالتیں اس معاملے میں مداخلت کرنے کی پابند ہیں۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ بچے کو کسی خاص مذہب کو ماننے یا نہ ماننے اور کسی خاص رسم یا رسم پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ختنہ کا رواج بچوں کو مجبور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے کہ ان کی پسند نام کی کوئی چیز نہیں۔ ان کے والدین کے یکطرفہ فیصلے پر عمل کرناہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’بچے کو اپنے والدین کی خواہشات اور خواہشات کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ بچوں کو کسی خاص عمل، عقیدے یا مذہب کا انتخاب کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ تاہم معاشرہ بچوں کی معذوری اور بے بسی کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ والدین کی مذہبی تعصب کی وجہ سے بچوں کے حقوق اور آزادیوں سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ بچے کو اکثریت حاصل کرنے کے بعد ہی کسی بھی مذہبی رسم کا انتخاب کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔”








