فلسطینیوں کا ماننا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست حکومت کی جانب سے مکانوں کو مسمار کرنے کی رفتار میں اس قدر تیزی دراصل مشرقی یروشلم پر کنٹرول کے لیے جاری وسیع تر جنگ کا ہی ایک حصہ ہے۔ اسرائیل نے سن 1967ء کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا اور فلسطینی اسے اپنی مستقبل کی آزاد ریاست کے دارالحکومت کے طور دیکھتے ہیں۔
مشرقی یروشلم پر قبضے کی یہ جنگ اب عمارات کی تعمیر کے پرمٹ اور مکانوں کی مسماری کے احکامات کے ساتھ لڑی جا رہی ہے اور یہ ایک ایسی جنگ ہے، جس کے بارے میں فلسطینیوں کو لگتا ہے کہ وہ اسے جیت نہیں سکتے۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ محض عمارات سے متعلق ضوابط کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ ماہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں آباد فلسطینیوں کے 39 مکانات اور دیگر کاروباری عمارتیں مسمار کر دیں، جن کی وجہ سے 50 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے۔ بین گویر نے اپنے ٹویٹر پر کئی تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں بلڈوزر فلسطینیوں کی عمارتیں منہدم کر رہے ہیں۔
فلسطینیوں کے لیے مشرقی یروشلم میں مکان تعمیر کرنے کے لیے اسرائیلی حکام سے پرمٹ حاصل کرنا تقریبا ًناممکن ہے اور اسی لیے بیشتر فلسطینی اپارٹمنٹس بغیر اجازت تعمیر کیے گئے تھے۔ سن 2017ء میں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ایک تحقیقی رپورٹ میں تعمیر کے لیے پرمٹ حاصل کرنا ”عملی طور پر ناممکن‘‘ قرار دیا گیا۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی میونسپلٹی فلسطینیوں کی ترقی کے لیے بہت کم زمین فراہم کرتی ہے لیکن اسرائیلی بستیوں کی توسیع میں سہولت فراہم کرتی ہے۔ سن 1967ء میں جب اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا، اس سے قبل تک فلسطینیوں کی جائیدادیں بہت کم رجسٹرڈ کی گئی تھیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس اسرائیلی قبضے کو آج تک تسلیم بھی نہیں کیا اگر خاندان خود اپنے گھروں کو مسمار نہیں کرتے تو حکومت ان کے گھروں کو توڑ کر اس کام کی فیس بھی وصول کرتی ہےاسرائیلی حکومت کا، جو منصوبہ ہے، اس میں قدیمی شہر کو ریاستی پارکوں کے گھیرے میں دکھایا گیا ہے اور جبل مکبر کا تقریباً 60 فیصد حصہ گرین زون میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینیوں کی ترقی محدود کر دی گئی ہے۔‘‘
نگراں اداروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے مشرقی یروشلم میں کم از کم 20 ہزار فلسطینی مکانات کو اب مسمار کرنے کا منصوبہ ہے۔( سورس ڈی ڈبلیو)








