نئی دہلی سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا(SDPI) کی قومی سیکرٹریٹ کی میٹنگ 14، 15 فروری کو دہلی میں منعقد ہوئی۔ ایس ڈی پی آئی کے قومی صدر ایم کے فیضی نے افتتاحی تقریر کی جس کے بعد ملک کی موجودہ سماجی و اقتصادی سیاسی صورتحال اور پارٹی سرگرمیوں پر گفتگو ہوئی اجلاس میں تینمختلف ایشوز پر قراردادیں منظور کی گئیں۔ایک قرارداد کانپورماں بیٹی کی موت کا سانچہ پر منظور کی گئی جس میں واقعہ پر اظہار افسوس کے ساتھ بلڈوزر کلچر کی مذمت کی گئی
اجلاس میں اڈانی قضیہ کے مختلف پہلوؤں پر کا جائزہ کے ساتھ مطالبہ کیا گیاکہ واقعہ کی آزادانہ و غیرجانبدارانہ جانچ کرایی جاۓ نیز گوتم اڈانی کا پاسپورٹ فوری طور پر ضبط کرلیا جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ بیرون ملک سفر نہ کرسکیں جیسا کہ ماضی میں کئی ہائی پروفائل فراڈ کیسوں میں ہوا ہے۔اڈانی کے تمام کاروباری کھاتوں کی نگرانی کریں اور ED اور IT محکموں کو حکم دیں کہ وہ ان کے مالی معاملات کے ریکارڈ کی جانچ کریں
تیسری قرارداد میں بی بی سی دفاتر پر چھاپے کی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اجلاس نے محسوس کیا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اور پی ایم ایل اے کو مخالفین اور میڈیا ہاؤسز کو ڈرانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ جمہوریت کے ستون کے طور پر کام کرنے کے بجائے، میڈیا کو حکومت کا ماؤتھ پیس بنا دیا جاتا ہے جو ملک کی جمہوری اقدار کے مطابق نہیں ہے۔ چند میڈیا ہاؤسز اور انفرادی صحافی جو اپنا کام کرتے ہیں اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھتے ہیں انہیں مسائل کا سامنا ہے۔ ایسی ہی ایک تازہ مثال بین الاقوامی کثیرلسانی نشریاتی ادارے بی بی سی (BBC)کے نئی دہلی اور ممبئی کے دفاتر پرآئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کا چھاپہ ہے۔ اس سے عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ خراب ہوئی ہے۔ معمولی جانچ کے نام پر اس غیر جمہوری چھاپے سے ہندوستان کے عالمی موقف کو پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ ہے کہ میڈیا بشمول بی بی سی جیسے غیر ملکی میڈیا ہاؤسز کو بلا خوف وخطر کام کرنے دیا جاۓ۔
میڈیا ہاؤسز سمیت مخالفین اور اختلاف رائے رکھنے والے شہریوں کو ڈرانے کے لیے ED، IT، NIA اور PMLA کا غلط استعمال بند کریں۔پریس ریلیز کے مطابق ایس ڈی پی آئی کی قومی سکریٹریٹ اجلاس میں پارٹی قومی نائب صدور اڈوکیٹ شرف الدین احمد، محمد شفیع، قومی جنر ل سکریٹریان الیاس تمبے، عبدالمجید فیضی، قومی سکریٹریان فیصل عزالدین، تائید الاسلام، عبدالستار اور قومی سیکرٹریٹ کے دیگر اراکین موجود تھے۔








