ہریانہ کے بھوانی میں بھرت پور (راجستھان) کے دو نوجوانوں کو ان کی بولیرو سمیت زندہ جلانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ گھروالوں کا الزام ہے کہ جنید اور ناصر کو بدھ کے روز گوپال گڑھ تھانہ علاقے کے پیروکا گاؤں سے کچھ لوگوں نے مار پیٹ اور اغوا کر لیا۔ اس کے بعد ہریانہ لے جا کر زندہ جلانے کی خبر آئی۔ نیوز ویب سائٹ سب رنگ انڈیا (sabrang india )نے یہ خبر دی ہے اور تفصیلات بھی بتائی ہیں۔
فیملی کا الزام ہے کہ بجرنگ دل کے لوگوں نے انہیں اغوا کیا جس کے بعد زندہ جلا دیا گیا۔ دونوں لاشیں بری طرح جلی ہوئی گاڑی کے اندر کنکال بن چکی تھیں۔ صرف ہڈیاں رہ گئی تھیں۔ تاہم ابھی تک اس سلسلے میں ہریانہ پولیس کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دونوں نوجوان جنید اور ناصر ہیں جو بھرت پور کے پہاڑی تھانہ علاقے کے رہائشی ہیں۔ جنید کے کزن اسماعیل نے بدھ کو گوپال گڑھ پولیس اسٹیشن ( بھرت پور) میں دونوں کی گمشدگی اور مارپیٹ کی شکایت درج کرائی۔
بتایا گیا کہ بدھ کی صبح 5 بجے کے قریب کزن جنید اور ناصر اپنی بولیرو گاڑی میں کام سے باہر گئے تھے۔ اس کے بعد وہ واپس نہیں آۓ۔ صبح تقریباً 9 بجے ایک چائے کے اسٹال پر ایک اجنبی نے اسے بتایا کہ بدھ کی صبح 6 بجے دو نوجوان گوپال گڑھ تھانہ کے پیروکا گاؤں کے جنگل سے ایک بولیرو میں جا رہے تھے، جنہیں 8-10 لوگوں نے بری طرح پیٹا اور واپس لوٹ گئے۔ اسی جگہ زخمی حالت میں بولیرو میں ڈال کر لے گئے۔
اسماعیل کا کہنا ہے کہ اسے جیسے ہی اس بات کا علم ہوا اس نے جنید اور ناصر کو فون کیا لیکن دونوں کے موبائل بند تھے۔ اسماعیل نے اس کی اطلاع اپنے گاؤں گھٹمیکا میں اپنے گھر والوں کو دی۔ جس کے بعد اہل خانہ اسماعیل کے یہاں پہنچ گئے۔ جب اسماعیل اپنے اہل خانہ کے ساتھ پیروکا گاؤں کے جنگل میں بتائی گئی جگہ پر گیا تو اسے وہاں ٹوٹے ہوئے شیشے پڑے ہوئے ملے۔۔ اسماعیل نے اپنی شکایت میں بجرنگ دل سے وابستہ مانیسر کے رہنے والے انیل، سری کانت، رنکو سینی، لوکیش سنگلا پر الزام لگایا ہے۔
لوہارو کے ڈی ایس پی جگت سنگھ موڑ نے بتایا کہ گاؤں والوں کے ذریعے ڈائل 112 پر اطلاع ملی کہ بارواس گاؤں میں ایک جلی ہوئی گاڑی کھڑی ہے۔ جب پولیس موقع پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ کار کے اندر دو افراد کے کنکال موجود ہیں۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ گاڑی کا چیسس نمبر لے لیا گیا ہے۔ ان کی بنیاد پر گاڑی کے مالک کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔








