رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ترکی اور شام میں زلزلہ متاثرین کے لیے امداد کے نام پر بڑے پیمانے پر دھوکہ باز سوشل میڈیا پر لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔
زلزلے میں جنوبی ترکی اور شمالی شام میں 41،000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، ہزاروں زخمی اور بے گھر ہوئے ہیں۔شعبدہ باز مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹوک اور ٹوئٹر پر زلزلے کے مناظر پر مبنی جذباتی ویڈیوز اور ہیش ٹیگز مثلا – ‘ترکی کے لئے دعا کریں’، اور ‘زلزلے سے متاثرہ افراد کے لئے عطیہ کریں’ کے ذریعے لوگو ں کو متوجہ کرتے ہیں۔
العربیہ کے مطابق تاہم بی بی سی اور بلپنگ کمپیوٹر نامی سائبر سکیورٹی پر کام کرنے والی خبر رساں ویب سائٹ کی ایک مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تصاویر اور ویڈیوز حقیقت پر مبنی یا حالیہ زلزلے سے متعلق نہیں ہں۔ دھوکے باز امداد کے نام پر رقم لے کر اپنے اکاؤنٹس بھر رہے ہیں۔ان رپورٹس میں آن لائن فراڈ کو متعدد مثالوں سے ثابت کیا گیا ہے۔
ایک ویڈیو میں ہلکی نیلی ٹوپی پہنے بچے کو دکھایا گیا ہے جو دھماکے کے باعث خوف اور پریشانی سے بھاگ رہا ہے۔ لائیو سٹریم کے میزبان نے پیغام لکھا: ’براہ کرم اس مقصد کو حاصل کرنے میں ہماری مدد کریں۔‘یہ ٹک ٹاک گفٹ کے لیے ایک واضح درخواست ہے تاہم اس بچے کی تصویر حالیہ زلزلے کی نہیں۔
تحقیق کے لیے جب اس تصویر کو ریورس امیج سے سرچ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہی تصویر اس سے قبل 2018 میں ٹوئٹر پر پوسٹ کی جا چکی ہے اور اس پر(شام کے شہر آفرین میں جنگ کے اثرات کے حوالے سے) عنوان لکھا گیا تھا ’آفرین میں نسل کشی بند کرو۔‘
دھوکے باز ٹویٹر کو بھی جذباتی پیغامات شیئر کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور ساتھ ہی صارفین سے چندہ طلب کرنے کے لئے کرپٹوکرنسی کے لنکس دیتے ہیں۔ عموما یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ترکیہ یا شام میں موجود ہیں تاہم ان کی شناخت کسی غلطی یا غلط ہجے استعمال کرنے سے بھی ہو سکتی ہے








