جھارکھنڈ کے پلاموں ضلع واقع پانکی میں دو طبقات کے درمیان پتھر بازی اور پرتشدد ٹکراؤ کے واقعہ کے دوسرے دن جمعرات کو حالات قابو میں رہی، لیکن کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے ضلع میں انٹرنیٹ سروس 19 فروری تک بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اس درمیان پولیس نے تشدد کے ملزم 13 لوگوں کو گرفتار کر جمعرات کو جیل بھیج دیا ہے۔ معاملے میں دو ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں 40-30 نامزد کے علاوہ 1000 سے زیادہ نامعلوم لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔
واضح ہو کہ بدھ کے روز پانکی میں مہاشیوراتری کے موقع پر تورندوار بنانے کے تنازعہ میں دو طبقات کے درمیان پتھر بازی اور پرتشدد تصادم ہوا تھا۔ ایک مکان، دو بائک اور دو دکانیں آگ کے حوالے کر دی گئی تھیں۔ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک شہر کا مسجد چوک علاقہ جنگ کا میدان بنا رہا تھا۔ ڈیڑھ درجن سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ کئی پولیس اہلکاروں کو بھی چوٹ لگی ہے جس میں علاقے کے پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آلو کمار ٹوڈو بھی شامل ہیں۔
یلاموں کے ڈپٹی کمشنر اے ڈوڈے اور ایس پی چندن سنہا نے بتایا کہ ہنگامہ اور شرپسندی پھیلانے والے کسی بھی شخص کے ساتھ نرمی نہیں برتی جائے گی۔ لوگوں سے صبر اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا کے پوسٹ پر بھی سخت نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ جمعرات کو پولیس اور سیکورٹی فورسز نے پانکی بازار میں فلیگ مارچ بھی کیا۔








