نئی دہلی:راجستھان پولیس کے تفتیش کاروں نے اکہا کہ 15 فروری کو مبینہ گئو رکھشکوں کے کم از کم دو گروہ زخمی جنید اور ناصر کے ساتھ ہریانہ میں 15 گھنٹے سے زیادہ گھومتے رہے، جب اگلی صبح ان کی جلی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جنید اور ناصر 15 فروری 2023 کو راجستھان کے بھرت پور سے ‘لاپتہ’ ہوئے تھے اور ایک دن بعد ان کی جلی ہوئی لاشیں ہریانہ کے بھیوانی ضلع کے لوہارو سے ملی تھیں۔انڈین ایکسپریس (INDIAN EXPRESS) کی رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا
انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے، ایک سینئر پولیس افسر نے کہا، "اب تک کی تحقیقات میں، ہم نے پایا ہے کہ گئؤ رکھشکوں کے دو گروہ اس جرم میں ملوث ہیں ۔ انہوں نے کہا، ” مبینہ گئو رکھشکوں کے دو گروہوں نے 15 فروری کی صبح جنید اور ناصر کو پکڑا لیکن انہیں ان کے ساتھ کوئی گائے نہیں ملی۔ اس کے بعد اس نے ہریانہ میں داخل ہونے سے پہلے دونوں کو بری طرح پیٹا۔پھر وہ ہریانہ پولیس کے پاس گئے اور انہیں حوالے کر دیا لیکن ہریانہ پولیس نے شدید زخمی جنید اور ناصر کو لینے سے انکار کر دیا”۔
اہلکار نے مزید کہا کہ 15 فروری کی صبح سے لے کر لاشوں کو جلانے تک 16-17 گھنٹے ہریانہ میں دونوں کو گے کر یہ ملزمان گھومتے رہے۔ ملزمان گورکھشک اسکارپیو چلا رہے تھے۔ نصیر اور جنید کی بولیرو بھی آدھی رات تک چلا رہے تھے، جس کے بعد ہریانہ کے لوہارو میں بولیرو کے ساتھ ان کی لاشوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔








