نئی دہلی:جنوبی اور وسطی ترکی میں قیامت خیز زلزلہ متاثرین کو فوری طور پر کھانے پینے اور رہائشی وسائل کی ضرورت ہے۔ایک شہر نہیں بلکہ وہاں دس صوبوں میں پانچ لاکھ سے زائد آشیانے تباہ و برباد ہوگئے ہیں۔ آج جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے انطاکیہ سے راحت رسانی کا آغاز کیا ، اس موقع پرجمعیۃ کی طرف سے مختلف خیموں میں ایک ہزار سلیپ ویل گدے تقسیم کیے گئے۔ پورا انطاکیہ شہر ویران پڑا ہواہے ، کوئی بھی مکان رہائش کے قابل نہیں ہے۔سخت ٹھنڈ میں مکمل آبادی دسیوں ہزار خیموں میں منتقل کردی گئی ہے، لیکن بہت ساروں کے پاس سرچھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ وفد نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی ، ان میں یتیم معصوم بچے بھی شا مل ہیں۔ جمعیۃ کے وفد میں مفتی محمدانوار قاسمی دیوبند، سید شہبازاورمحمد عبد اللہ بھی شامل ہیں
دریں اثنا جمعیۃ کے وفد نے کہرمان مرعش میں ترکی کے وزیر انصاف بیکیر بوزداگ سے ملاقات کی اور بھارت کے مسلمانوں کی طرف سے اس دردناک سانحہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔وفد نے بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی اس دکھ کی گھڑی میں ترکی کے ساتھ کھڑے ہیں اور جمعیۃ ممکنہ حد تک یہاں ریلیف کا کام انجام دے رہی ہے۔ وزیر انصاف نے جمعیۃ کی طرف سے راحت رسانی کے کاموں کا استقبال کیا اوراپنی طرف سے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وفد کے لیڈر مولاناحکیم الدین قاسمی نے بتایا کہ زلزلہ آنے کا سلسلہ رک نہیں رہا ہے،ازلزلہ کا پورا علاقہ ایک ہزار کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔جمعیۃ کا وفد لگاتار ضرورت مندوں تک پہنچنے کی کوشش کررہا ہے۔ ( پریس ریلیز)








