دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ کو احتجاج کرنا اب مہنگا پڑ سکتا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے طلباء پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی نہیں احتجاج کرنے والے طلبہ کے داخلہ منسوخ کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی طالب علم تشدد سے متعلق کسی معاملے میں قصوروار پایا جاتا ہے تو اس پر 30 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
جے این یو نیے ضابطوں کے حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ نے 10 صفحات پر مشتمل ایک ایڈوائزری جاری کی ہے، جسے ‘رولز آف ڈسپلن اینڈ کنڈکٹ’ کا نام دیا گیا ہے۔ پروویژن کے مطابق ایسے معاملات میں پروٹورل انویسٹی گیشن اور بیانات کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔ یہ نئے ضابطے یونیورسٹی کے تمام طلباء پر لاگو ہوں گے، بشمول پارٹ ٹائم طلباء، چاہے ان قوانین کے آغاز سے پہلے یا بعد میں داخلہ لیا گیا ہو۔








