دہلی: اترپردیش کے ہاتھرس اجتماعی عصمت دری کیس میں عدالت نے چار ملزمان میں سے تین کو بری کر دیا ہے۔ مرکزی ملزم سندیپ سنگھ کودفعہ 304 (غیرارادی قتل )کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے۔ باقی تین ملزمان لوکش، روی، رام کمار کو بری کر دیا ۔ سندیپ سنگھ کو عمر قید کے ساتھ پچاس ہزار کا جرمانہ لگایا گیا ۔
14 ستمبر 2020 کو ہاتھرس کے بول گڑھی میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ 29 ستمبر 2020 کو لڑکی کی دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں موت ہوگئی۔ 29 ستمبر کی دیر رات کو یوپی انتظامیہ نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف لڑکی کی آخری رسومات ادا کیں جس کے بعد کافی ہنگامہ ہوا۔
ہاتھرس گینگ ریپ قتل کیس پر کافی سیاست ہوئی۔ کئی دنوں تک یوپی پولیس نے اہل خانہ کو میڈیا یا دیگر اپوزیشن لیڈروں سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔ پورے معاملے میں سندیپ ٹھاکر، لو کش، رامو، روی کو قتل، عصمت دری اور ایس سی ایکٹ ایکٹ کی دفعات کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔ سی بی آئی نے پورے معاملے کی جانچ کی۔








