ریاست کی بی جے پی حکومت کرناٹک میں نفرت اور فساد پھیلانے والے ملزمان کو ان کے خلاف درج مقدمات واپس لے کر رہا کر رہی ہے۔
انڈین ایکسپریس(INDANEXPRES) نے کیس واپس لینے کے معاملات کی چھان بین کی ہے۔ اس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 2019 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے بی جے پی حکومت ملزمان کو اندھا دھند رہا کر رہی ہے۔ صرف اکتوبر 2022 میں،ہی 34 مقدمات میں ملزمان کو بری کرنے پر پولیس، محکمہ قانون اور محکمہ استغاثہ کے اعتراضات کو مسترد کر دیاگیا۔ ان تمام ملزمان پر نفرت انگیز تقریراوذ فرقہ وارانہ فساد پھیلانے کا الزام تھا۔
ان 34 کیسوں کے علاوہ، دی انڈین ایکسپریس نے-2019 ۔2009کے دوران 10 سال کی مدت میں کیسز کا جائزہ لیا۔ ان ملزمان میں سے سنگھ پریوار سے جڑے گروپوں کے 113 کارکن 16 مقدمات میں ملوث ہیں۔ ہندو جاگرن ویدیکے (HJV)، بنیادی طور پر وشو ہندو پریشد سے وابستہہے اس کے علاوہ بجرنگ دل ہے، شری رام سینا ہے۔ باقی 18 کیس کسانوں اور دیگر گروپوں کے احتجاج سے متعلق ہیں، جن میں 228 افراد شامل ہیں۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق، محکمہ داخلہ نے یکم اکتوبر 2022 کو ایک حکم نامہ جاری کیا، جس کی آڑ میں ملزمان کو رہا کر دیا گیا۔ تاہم اس نے محکمہ پراسیکیوشن کو ہدایت کی کہ وہ 34 مقدمات کی واپسی کے لیے متعلقہ عدالتوں میں ضروری درخواستیں دیں۔
19 ستمبر 2022 کو ریاستی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے رکھے گئے دستاویزات کے مطابق، ریاستی پولیس، محکمہ پراسیکیوشن اور محکمہ قانون نے ان 34 مقدمات میں سے ہر ایک کو واپس لینے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ "واپس لینے کے قابل نہیں” ہیں۔ ,
دی انڈین ایکسپریس کے ذریعے حاصل کیے گئے ریکارڈ کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ اکتوبر کے حکم کی بنیاد پر آٹھ مقدمات میں ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔
انڈین ایکسپریس نے ایسے بہت سے معاملات کی پڑتال کی ہے کہ کیسے سرکار نے ہندوتووادیوں پر سے کیس ختم کردیے ہیں
تاہم اس سلسلے میں ایڈوکیٹ سدھا کٹوا نے کرناٹک ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے۔ گزشتہ سال ان کی درخواست پر عدالت نے کہا تھا کہ منتخب نمائندوں کے خلاف مقدمات اس کی منظوری کے بغیر واپس نہیں لیے جا سکتے۔ لیکن کرناٹک میں اس کو نظرانداز کر دیا گیا۔ بہرحال مقدمہ واپس لینے کا سلسلہ رکانہیں ہے۔ اب 21 فروری کو کرناٹک حکومت نے 21 مقدمات واپس لینے کا عمل شروع کیا ہے۔ ان تمام معاملات میں بی جے پی یا آر ایس ایس کے لوگ ملزم ہیں۔
کانگریس بھی دھلی نہیں ہے:ایسا نہیں ہے کہ متنازعہ مقدمات صرف بی جے پی کے دور حکومت میں ہی واپس لیے گئے تھے۔ کانگریس کے دور حکومت میں بھی کئی مقدمات واپس لے لیے گئے۔ 2013 سے 2018 تک کانگریس کے دور حکومت میں 176 مقدمات واپس لیے گئے۔ اس وقت سدارامیا کرناٹک کے سی ایم تھے۔








