اردو
हिन्दी
اگست 4, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

123 وقف جائیداد کا مسئلہ :غلط دروازے پر دستک

3 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
195
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:احمد جاوید.:- ہندوستان میں قوانین بنیادی طور پر دو نوعیت کے ہیں، فوجداری(تعزیری) اور غیر فوجداری (منصفی) یعنی کرمنل لا اور سول جسٹس. پھر ان دونوں کے ضابطہ جاتی قوانین الگ ہیں جو عدالتوں اور تفتیشی ایجنسیوں کی کارروائیوں کے طور طریقے کو طے کرتے ہیں. ان دونوں میں ایک بنیادی فرق یہ ہےکہ پہلے قسم کے مقدمات میں قانون اور عدالت ازخود کارروائی کرتی ہے. مدعی اور گواہوں کے بیان کی تحقیق و تحکیم اور اس کی بنیاد پر فریق استغاثہ کی مدد کرنا اور مجرم کو سزا دینا دلانا عدالت کی ذمہ داری ہے، ریاست اس میں مدعی کے ساتھ فریق استغاثہ ہوتی ہے. سول جسٹس کے مقدمات میں ایسا نہیں ہوتا. اس میں مدعی (فریق اول) کو دعوے اور تنقیحات خود پیش کرنا ہوتا ہے، عدالت آپ کے دعووں اور ثبوتوں کی جانچ جانچ کرکے صرف یہ طے کرتی ہے کہ آپ نے جو حقوق یا راحت طلب کی ہے، وہ جائز ہے یا نہیں. آپ نے اگر مقدمے کی نوعیت کو نظر میں رکھے بغیر غلط دروازے پر غلط دستک دی تو نتیجہ غلط نکلےگا،
دہلی میں اوقاف کی 123 اراضی کا مسئلہ جو برسہا برس سے زیربحث ہے، ایسا ہی ایک مسئلہ ہے جو سول جسٹس کے مقدمہ کو فوجداری کی طرح لینے اور غلط دروازے پر غلط دستک دینے سے پیدا ہوا –
اس مسئلے میں یہ تین نکات یاد رکھنے کے ہیں. (1) یہ ساری کی ساری 123 جائیدادیں اہل اسلام کی ہیں، ان کے قبضے اور استعمال میں ہیں. بالکل غیر متنازعہ ہیں. ایسا اس وقت بھی تھا جب برنی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ ان کا کنٹرول دہلی وقف بورڈ کو دے دیا جائے کیونکہ ان کے خردبرد ہونے کا خطرہ تھا یا ان میں سے بعض کے بعض حصوں پر مقبوضات قائم کرلی گئی تھیں. ان ہی میں جامع مسجد دہلی اور اس طرح کی کئی بڑی مساجد بھی شامل ہیں.
(2)ان پر تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب وقف بورڈ نے سرکار کے ساتھ لیز کیا یعنی اس کی ملکیت ایک معینہ مدت کے لئے بورڈ کو منتقل کی گئی. گویا کہ وقف بورڈ نے باضابطہ تحریری طور پر تسلیم کرلیا کہ یہ جائیدادیں کسی محکمہ مجاز کی ملکیت ہے. یہ ایک غیر قانونی کارروائی تھی کیونکہ یہ جائیدادیں وقف عام ہیں اور صدیوں سے اہل اسلام کے قبضہ و تصرف میں ہیں اور اس پر کسی کا کوئی مالکانہ حق نہیں تھا، محکمہ مجاز کے کاغذات میں ایسی جائیداد کی ملکیت کے خانے میں اس لیے سرکار/ریاست درج ہوتا ہے کیونکہ یہ کسی فرد/افراد کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی اور یہ محصولات اراضی سے مستثنیٰ ہوتی ہے. یہ جائیداد مجازو متعلقہ کمیونٹی کی ہوتی ہے جس کی تفصیلات کھتیان کے ساتویں خانے میں درج ہوتی ہیں لیکن وہ بھی اس تصرف کی مجاز نہیں ہوتی، حکومت کی نگرانی میں ہوتی ہے گویا اس کے حقوق ملکیت و استعمال ریاست اور متعلقہ کمیونٹی کے درمیان مشترک ہوتے ہیں. کمیونٹی کے پاس اس کے استعمال کا حق ہے اور ریاست کے پاس اس کی حفاظت کی ذمہ داری کہ اس کا استعمال تبدیل نہ کیا جائے. غرضیکہ سارا معاملہ کمیونٹی اور ریاست کے درمیان ہے جس کو وقف بورڈ اور سرکار/ محکمہ کے بیچ بنایا گیا. جبکہ بورڈ کسی وقف کا مالک نہیں ہوتا، صرف اس کا نگران اور انتظام کار ہوتا ہے.
یہی لیز وہ غلط دستک تھی جس نے اس مسئلہ میں تیسرے فریق کے لیے دروازہ کھولا اور فرقہ پرست ہندو گروپ اس میں داخل ہوا کہ جو زمین سرکار وقف بورڈ کو دے رہی ہے وہ ہمیں کیوں نہیں دے سکتی جبکہ ہم زیادہ قیمت پر لیز حاصل کرنا چاہتے ہیں. اب عدالت اس لیز کو برقرار رکھتی ہے تو ایک خطرناک پنڈارہ باکس کھل جائےگا لیکن وقف بورڈ اور مسلم لیڈران اسی اندھی لکیر کو پیٹ رہے ہیں. برنی کمیٹی
اور لیز کا کھیل جامع مسجد جیسی مساجد سے اہل محلہ اور امام کا کنٹرول ختم کرکے ان پر وقف بورڈ/سرکار کو قابض و دخیل کرنا تھاجس سے یہ تنازعہ پیدا ہوا.
(3)اسی الجھن کو دور کرنے کیلئے نیا وقف ایکٹ لایا گیا جس میں وقف جائیداد کی تعریف تبدیل کی گئی اور اس کی رو سے وقف بورڈ کو اختیار دیا گیا کہ وقف کی حفاظت اور رکھ رکھاؤ کے لیے ایسی جائیدادوں کا ازخود اندراج کرکے جس کا کوئی باضابطہ شرعی متولی نہیں یا جہاں متولی نااہل ہوچکا ہے ، اسے اپنے کنٹرول میں لے سکتاہے. اس پر کسی کا قبضہ ہے تو خالی خود کراسکتا ہے اور حکومت و انتظامیہ اس کارروائی میں اس کی مدد کرنے کی پابند ہے، اعتراض کی صورت میں اس پر ضابطہ فوجداری وغیرہ کے عام قوانین اور عام عدالت کے بجائے مقدمہ کی سماعت وقف ٹربیونل میں ہوگی اور دعویدار کو حق ملکیت کا ثبوت پیش کرنا ہوگا. جو لوگ ہائیکورٹ میں 123 جائیدادوں کی ملکیت کا مسئلہ لے گئے یا سرکار نے جو لیز کیا انہوں نے ایک غلط دروازے پر غلط دستک دے کر مسئلہ پیدا کرنے کا ارتکاب کیا اور اب بھی اسی غلطی کو دوہرارہے ہیں. لیز بھی غیر قانونی ہے اور ان پر بشمول وقف بورڈ کسی کی ملکیت کا دعویٰ بھی ناقابل سماعت اور کالعدم ہے. بورڈ ان جائیدادوں کا نگران محض ہے، ملکیت ریاست اور کمیونٹی کے درمیان مشترک ہے. کھتیان کے ساتویں خانے جن کا نام درج ہے ان کو حکومت یا کوئی اور کسی بھی حال میں کسی قیمت پر بےدخل نہیں کرسکتا.

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

جولائی 7, 2026
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN