اتر پردیش کے سنبھل میں، ایک ‘مقامی صحافی’ جسے ایک وزیر سے ایک میٹنگ میں گاؤں کی ترقی کے بارے میں سوال پوچھنے کے بعد گرفتار کیا گیا، اس پر بی جے پی کے کارکنوں پر حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
صحافی کی سوال پوچھنے والی ویڈیو وائرل ہو گئی، پہلے بتائیں وائرل ویڈیو میں کیا ہو رہا ہے۔
اس ویڈیو میں صحافی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ بدھ نگر میں ایک بھی شادی ہال نہیں اور نہ ہی یہاں کوئی سرکاری بیت الخلا ہے، آپ نے کہا تھا کہ میں مندر سے یہاں تک اس سڑک کو پکی کروا دوں گی، اب تک یہ سڑک کچیہے۔ پیدل اورموٹر سائیکلوں سے چلنے والے پریشان ہوتے ہیں، آپ نے دیوی کے مندر کی باؤنڈری کا وعدہ بھی کیا تھا، آپ نے ابھی تک اس پر کارروائی نہیں کی، گاؤں کے لوگ آپ کے دفتر گئے، وہاں بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔”
صحافی اپنی بات رکھ رہا تھا کہ پیچھے سے وزیر کے ساتھ موجود ایک خاتون کی آواز آتی ہے، ’’آپ مسئلہ رکھ رہے ہیں یا اپنی تشہیر کررہے ہیں؟‘‘ صحافی کہتا ہے، ’’جب تک عوام کی آواز آپ تک نہیں پہنچتی، آپ دعویٰ کرتی ہیں کہ کام ہوگیا، لیکن گاؤں میں کوئی کام نہیں ہوا، پھر کیا کہیں گی
حکومت اتر پردیش میں ثانوی تعلیم کے محکمے کی آزاد انچارج، ڈائس پر بیٹھی وزیر گلاب دیوی کہتی ہیں، "میں کافی دیر سے تیری آنکھوں کو پہچان رہی تھی، یہاں تک کہ جب تو وہاں کھڑا تھا تب بھی تیری آنکھوں کو پہچان رہی تھی۔
اس پروگرام کے بعد سنبھل کے چندوسی تھانے کی پولیس نے سنجے رانا نامی اس مقامی صحافی کو بی جے پی کارکن پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
بی بی سی کو سنجے رانا کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے چندوسی سرکل آفیسر دیپک کمار نے کہا کہ ‘ایک نوجوان کے خلاف حملہ کی شکایت موصول ہوئی تھی، جس پر ایف آئی آر درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا’۔حالانکہ پولیس سنجے رانا کو صحافی نہیں مان رہی ہے۔ پولیس کے مطابق سنجے رانا ضلع کے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ نہیں ہے۔شبھم راگھو نامی بی جے پی کارکن کی شکایت پر سنجے رانا کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 323، 504 اور 506 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔








