خالصتان کے حامی امرت پال سنگھ خالصہ نے اتوار 23 اپریل کو پنجاب میں پولیس کے سامنے خودسپردگی کی۔ اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ این ڈی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امرت پال نے موگا میں خودسپردگی کی۔ امرت پال 18 مارچ سے مفرور تھا۔ تاہم پنجاب پولیس نے صبح پونے آٹھ بجے ٹویٹ کرکے گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے پنجاب پولیس نے کہا ہے کہ تمام معلومات جلد فراہم کی جائیں گی۔
امرت پال سنگھ کو آسام کے ڈبرو گڑھ لے جایا جا رہا ہے، جہاں اس کے آٹھ ساتھی پہلے ہی قومی سلامتی ایکٹ کے تحت حراست میں ہیں۔ امرت پال کے قریبی پپل پریت سنگھ کو گرفتار کیا گیا۔ تب سے یہ خبریں گرم تھیں کہ جلد ہی امرت پال سنگھ بھی پولیس کے ہاتھوں پکڑاجاۓگا۔ پنجاب کے تمام مذہبی رہنماؤں نے امرت پال سنگھ سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی تھی۔
امرت پال سنگھ، جسے حکومت خالصتانی پاکستانی ایجنٹ قرار دیتی ہے، پچھلے کچھ سالوں سے پنجاب میں سرگرم ہے اور اکثر مسلح حامیوں میں گھرا نظر آتاہے۔ وہ خالصتانی علیحدگی پسند اور دہشت گرد جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کا پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اپنے حامیوں میں "بھنڈرانوال 2.0” کے نام سے جانا جاتا ہے۔







